ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزمر (39) — آیت 31

ثُمَّ اِنَّکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ عِنۡدَ رَبِّکُمۡ تَخۡتَصِمُوۡنَ ﴿٪۳۱﴾
پھر بے شک تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے۔ En
پھر تم سب قیامت کے دن اپنے پروردگار کے سامنے جھگڑو گے (اور جھگڑا فیصل کردیا جائے گا)
En
پھر تم سب کے سب قیامت والے دن اپنے رب کے سامنے جھگڑو گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 31) ➊ { ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ …:} اس سے پہلی اور بعد میں آنے والی آیات کے مطابق اس جھگڑے سے مراد مشرکین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے جھگڑا ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا مقدمہ پیش کریں گے کہ یا اللہ! میں نے ان لوگوں کو تیرا پیغام پہنچایا مگر انھوں نے مجھے جھٹلا دیا۔ (دیکھیے فرقان: ۳۰) اور مشرکین قسمیں کھا کر دنیا میں اپنے مشرک ہونے کا انکار کر دیں گے، وہ کہیں گے: «‏‏‏‏وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ» ‏‏‏‏ [الأنعام: ۲۳] اللہ کی قسم! جو ہمارا رب ہے، ہم شریک بنانے والے نہ تھے۔ پھر فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوگا جو ان پر نبی کی شہادت کے علاوہ ایمان والوں کی، فرشتوں کی، زمین و آسمان کی اور خود ان مشرکوں کے ہاتھ پاؤں، زبانوں اور دوسرے اعضا کی شہادتوں کے ساتھ ان کا جرم ثابت کر کے ان کے انجام کا فیصلہ فرمائے گا۔
➋ آیت کے الفاظ عام ہونے کی وجہ سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے ہونے والے تمام جھگڑے بھی اس میں شامل ہیں، جو کفار اور مسلمانوں کے درمیان ہوں گے، یا مشرکین اور ان کے معبودوں یا بڑے لوگوں اور ان کے فرماں برداروں کے درمیان ہوں گے، یا بادشاہوں اور ان کی رعایا کے درمیان ہوں گے، یا مظلوموں اور ظالموں کے درمیان ہوں گے، خواہ وہ دونوں مسلمان ہوں، حتیٰ کہ آدمی کا اپنے اعضا سے بھی جھگڑا ہو گا۔ (دیکھیے حٰم السجدہ: ۲۱) اس لیے اکثر مفسرین نے اس آیت کو عام رکھا ہے۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل کیا ہے: { يُخَاصِمُ الصَّادِقُ الْكَاذِبَ، وَالْمَظْلُوْمُ الظَّالِمَ، وَالْمُهْتَدِي الضَّالَّ وَالضَّعِيْفُ الْمُسْتَكْبِرَ } [طبري: ۳۰۳۸۳] یعنی سچا جھوٹے سے، مظلوم ظالم سے، ہدایت والا گمراہ سے اور کمزور متکبر سے جھگڑے گا۔ زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [لَمَّا نَزَلَتْ: «‏‏‏‏ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ» ‏‏‏‏ قَالَ الزُّبَيْرُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَتُكَرَّرُ عَلَيْنَا الْخُصُوْمَةُ بَعْدَ الَّذِيْ كَانَ بَيْنَنَا فِي الدُّنْيَا؟ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ إِنَّ الْأَمْرَ إِذًا لَشَدِيْدٌ] [ترمذي، التفسیر، باب و من سورۃ الزمر: ۳۲۳۶، قال الترمذي حسن صحیح وقال الألباني حسن الإسناد] جب یہ آیت: «ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ» ‏‏‏‏ اتری تو زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! کیا دنیا میں جھگڑے ہونے کے بعد وہ جھگڑے دوبارہ ہمارے درمیان ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! تو زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس وقت تو معاملہ بہت سخت ہو گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

31۔ 1 یعنی اے پیغمبر! آپ بھی اور آپ کے مخالف بھی، سب موت سے ہمکنار ہو کر اس دنیا سے ہمارے پاس آخرت میں آئیں گے۔ دنیا میں تو توحید اور شرک کا فیصلہ تمہارے درمیان نہیں ہوسکا اور تم اس بارے میں جھگڑتے ہی رہے لیکن یہاں میں اس کا فیصلہ کروں گا اور مخلص موحدین کو جنت میں اور مشرکین و جاحدین اور مکذبین کو جہنم میں داخل کروں گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

31۔ پھر قیامت کے دن تم اپنے پروردگار کے ہاں اپنا اپنا [47] مقدمہ پیش کرو گے۔
[47] اللہ کے ہاں کس کس قسم کے لوگ آپس میں جھگڑا کریں گے؟
یہ جھگڑے بھی کئی قسم کے ہوں گے۔ مظلوم ظالم کو دامن سے پکڑے اللہ کے حضور پیش کرے گا اور اپنے ظلم کے بارے میں اللہ کے حضور دلائل پیش کرے گا۔ دوسری قسم یہ کہ کافر اور مشرک اپنے جرم کا انکار کر دیں گے۔ پھر ان کے خلاف رسولوں کی اور ایمانداروں کی شہادتیں ہوں گی۔ پھر ان کے اپنے اعضاء بھی ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ تیسری قسم اہل حق اور اہل باطل یا موحدوں اور مشرکوں میں جھگڑوں کا فیصلہ اللہ تعالیٰ خود کریں گے۔ چوتھی قسم مشرکین اور ان کے معبودوں یا بڑے لوگوں اور ان کے تابعداروں میں جھگڑا ہو گا۔ دونوں ایک دوسرے پر الزام دھریں گے۔ غرض کئی قسم کے جھگڑے ہوں گے۔ جن کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں نہایت انصاف کے ساتھ کیا جائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔