(آیت 26) ➊ { فَاَذَاقَهُمُاللّٰهُالْخِزْيَفِيالْحَيٰوةِالدُّنْيَا …:} دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ان عذابوں کے ذریعے سے انھیں رسوائی چکھائی اور آخرت کا عذاب ان سے کہیں زیادہ بڑا ہے، کیونکہ آخرت کی آگ دنیا کی آگ سے ستر (۷۰) گنا زیادہ حرارت والی ہے، پھر دنیا کا عذاب تو ختم ہونے والا ہے، مگر آخرت کا عذاب ہمیشہ کے لیے ہے۔ اس کے علاوہ آخرت کا عذاب رسوائی میں بھی کہیں زیادہ ہے۔ دیکھیے سورۂ حمٰ السجدہ (۱۶)۔ ➋ { لَوْكَانُوْايَعْلَمُوْنَ:} یعنی وہ یہ بات جانتے ہی نہ تھے کہ آخرت کا عذاب کہیں زیادہ بڑا ہے، ورنہ وہ اس سے بے خوف نہ ہوتے۔ معلوم ہوا کہ اگر انھوں نے علم کے باوجود نافرمانی کی تو حقیقت میں وہ علم نہ تھا بلکہ جہل تھا، کیونکہ علم وہ ہے جو عمل پر آمادہ کرے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
26۔ پھر اللہ نے انہیں دنیا کی زندگی میں ہی رسوائی کا مزا چکھا دیا اور آخرت کا عذاب تو کہیں [41] بڑھ کر ہے کاش وہ جانتے ہوتے
[41] دنیا میں سزا محض ظالم کا ہاتھ روکنے کے لئے دی جاتی ہے :۔
وہ اللہ کی آیات یا اس کی وعید کا مذاق اڑانے میں لگے رہے اور پیغمبروں سے یہی کہتے رہے کہ وہ عذاب کب آئے گا جس کی دھمکی دے رہے ہو۔ اسے لے کیوں نہیں آتے۔ وہ اپنے اس شغل میں ہی مگن تھے کہ انہیں اللہ کے عذاب نے آلیا اور یہ عذاب کوئی ان کے جرائم کی سزا نہیں تھی بلکہ اس طرح انہیں مزید ظلم اور زیادتیوں سے روک دیا گیا اور اصل سزا تو انہیں اس وقت دی جائے گی جب وہ میدان محشر میں پیش کئے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔