ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزمر (39) — آیت 25

کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَاَتٰىہُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۲۵﴾
ان لوگوں نے جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے تو ان پر وہاں سے عذاب آیا کہ وہ سوچتے نہ تھے۔ En
جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی تکذیب کی تھی تو ان پر عذاب ایسی جگہ سے آگیا کہ ان کو خبر ہی نہ تھی
En
ان سے پہلے والوں نے بھی جھٹلایا، پھر ان پر وہاں سے عذاب آپڑا جہاں سے ان کو خیال بھی نہ تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 25) {كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ …:} رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والوں کو متنبہ کرنے کے لیے فرمایا کہ ان سے پہلے لوگوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا تو ان پر وہاں سے عذاب آیا کہ وہ سوچتے بھی نہ تھے۔ مثلاً زلزلے سے ان کے مکانوں کی چھتیں ان پر گر پڑیں۔ (دیکھیے نحل: ۲۶) بعض پر پتھراؤ والی ہوا بھیجی گئی، بعض کو چیخ نے پکڑ لیا، بعض کو زمین میں دھنسا دیا گیا اور بعض کو غرق کر دیا گیا۔ (دیکھیے عنکبوت: ۴۰)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

25۔ 1 اور انہیں ان عذابوں سے کوئی نہیں بچاسکا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

25۔ ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی جھٹلایا تو ان کو ایسی جگہ سے عذاب آیا جس کا انہیں سان گمان تک نہ تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

روزِ قیامت کا احوال ٭٭
ایک وہ جسے اس ہنگامہ خیز دن میں امن و امان حاصل ہو اور ایک وہ جسے اپنے منہ پر عذاب کے تھپڑ کھانے پڑتے ہوں برابر ہو سکتے ہیں؟ جیسے فرمایا «أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ۱؎ [67-الملك:22]‏‏‏‏ ’ اوندھے منہ، منہ کے بل چلنے والا اور راست قامت اپنے پیروں سیدھی راہ چلتے والا برابر نہیں ‘۔ «يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [54-القمر:48]‏‏‏‏ ’ ان کفار کو تو قیامت کے دن اوندھے منہ گھسیٹا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آگ کا مزہ چکھو ‘۔
ایک اور آیت میں ہے «أَفَمَن يُلْقَىٰ فِي النَّارِ خَيْرٌ أَم مَّن يَأْتِي آمِنًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ۱؎ [41-فصلت:40]‏‏‏‏ ’ جہنم میں داخل کیا جانے والا بدنصیب اچھا یا امن و امان سے قیامت کا دن گذارنے والا اچھا؟ ‘ یہاں اس آیت کا مطلب یہی ہے لیکن ایک قسم کا ذکر کر کے دوسری قسم کے بیان کو چھوڑ دیا کیونکہ اسی سے وہ بھی سمجھ لیا جاتا ہے یہ بات شعراء کے کلام میں برابر پائی جاتی ہے۔
اگلے لوگوں نے بھی اللہ کی باتوں کو نہ مانا تھا اور رسولوں کو جھوٹا کہا تھا پھر دیکھو کہ ان پر کس طرح ان کی بے خبری میں مار پڑی؟ عذاب اللہ نے انہیں دنیا میں بھی ذلیل و خوار کیا اور آخرت کے سخت عذاب بھی ان کے لیے باقی ہیں۔ ’ پس تمہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ اشرف رسل صلی اللہ علیہ وسلم کے ستانے اور نہ ماننے کی وجہ سے تم پر کہیں ان سے بھی بدتر عذاب برس نہ پڑیں۔ تم اگر ذی علم ہو تو ان کے حالات اور تذکرے تمہاری نصیحت کے لیے کافی ہیں ‘۔