اس آیت کی تفسیر آیت 73 میں تا آیت 75 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
74۔ 1 اگر ابلیس کو صفات ملائکہ سے متصف مانا جائے تو یہ استثنا متصل ہوگا یعنی ابلیس اس حکم سجدہ میں داخل ہوگا بصورت دیگر یہ استثنا منقطع ہے یعنی وہ اس حکم میں داخل نہیں تھا لیکن آسمان پر رہنے کی وجہ سے اسے بھی حکم دیا گیا۔ مگر اس نے تکبر کی وجہ سے انکار کردیا۔ 74۔ 2 یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت اور اس کی اطاعت سے استکبار کی وجہ سے وہ کافر ہوگیا۔ یا اللہ کے علم میں وہ کافر تھا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
74۔ سوائے ابلیس کے، جو اکڑ بیٹھا اور کافروں سے [69] ہو گیا۔
[69] فرشتوں کو سیدنا آدم کو سجدہ کا حکم:۔
اللہ تعالیٰ کے آدم کو مٹی سے بنانے، اس میں اپنی روح پھونکنے، فرشتوں کو آدم کو سجدہ کا حکم دینے ابلیس کی حقیقت اور اس کے آدم کو سجدہ سے انکار کرنے کی تفصیل پہلے کئی مقامات پر گزر چکی ہے۔ مثلاً سورۃ بقرہ کا چوتھا رکوع، سورۃ حجر کی آیات 25 تا 43، سورۃ اعراف آیات 11 تا 15، سورۃ بنی اسرائیل آیات 61 تا 65، سورۃ کہف آیت نمبر 50، سورۃ طہٰ آیات نمبر 116 تا 123 میں گزر چکی ہے۔ اور نظریہ ارتقاء کی تردید کے لئے سورۃ حجر کا حاشیہ نمبر 19 ملاحظہ فرمائیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔