(آیت 64){ اِنَّذٰلِكَلَحَقٌّ …:} یعنی اگرچہ یہ بات تمھاری سمجھ میں آنا مشکل ہے کہ اتنے شدید عذاب اور نفسا نفسی میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے، مگر سن لو! یہ بات بالکل حق ہے کہ آگ میں جلنے والے ایک دوسرے سے سخت جھگڑیں گے اور یہ بھی ان کے عذاب کا ایک حصہ ہو گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
64۔ 1 یعنی آپس میں ان کی تکرار اور ایک دوسرے کو مورد طعن بنانا، ایک ایسی حقیقت ہے جس میں تکلف نہیں ہوگا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
64۔ یہ بات یقیناً سچی ہے کہ دوزخی باہم ایسے ہی جھگڑتے [64] ہوں گے
[64] اگرچہ روز محشر کی ہولنا کیاں اتنی شدید ہوں گی کہ کسی کو دوسرے کی طرف توجہ کرنے کا ہوش تک نہ ہو گا۔ تاہم یہ ایک یقینی بات ہے اور اہل دوزخ ایک دوسرے کے سر الزام دیں گے اور آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے یہ دو قسم کے لوگ ہوں گے۔ ایک بڑے لوگ جن میں حکمران، سیاسی لیڈر، چودھری، رئیس جھوٹے پیشوایان دین اور ہر ایسا شخص شامل ہو گا جس کی دنیا میں کسی نہ کسی رنگ میں اللہ کے مقابلہ میں اطاعت کی جاتی رہی اور دوسرا فریق کمزور یا مرید قسم کے لوگ ہوں گے جو اپنے بڑوں کی اطاعت حتیٰ کہ عبادت کرتے رہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔