(آیت 63){ اَتَّخَذْنٰهُمْسِخْرِيًّا …:} یعنی اب دو ہی صورتیں ہیں، یا تو ہم غلطی پر تھے کہ انھیں ناحق مذاق کا نشانہ بناتے رہے، یا وہ بھی یہیں کہیں جہنم میں ہیں، مگر ہماری نگاہیں ان سے پھر گئی ہیں، جو وہ ہمیں نظر نہیں آ رہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
63۔ 1 یعنی دنیا میں، جہاں ہم غلطی پر تھے؟ 63۔ 2 یا وہ بھی ہمارے ساتھ ہی یہیں کہیں ہیں، ہماری نظریں انہیں نہیں دیکھ پا رہی ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
63۔ کیا ہم یونہی ان کا مذاق اڑاتے رہے؟ یا اب ہماری نگاہیں ہی ان سے [63] پھر گئی ہیں؟“
[63] یعنی چودھری اور سردار قسم کے لوگ آپس میں کہیں گے کہ جن لوگوں کو ہم حقیر اور کمتر درجہ کے لوگ سمجھا کرتے تھے کیا بات ہے وہ ہمیں آج کہیں دکھائی نہیں دے رہے۔ اب اس کی دو ہی صورتیں ممکن ہیں ایک یہ کہ شاید وہ یہیں کہیں ہوں اور ہماری نظروں سے اوجھل ہوں اور دوسری یہ کہ ممکن ہے کہ ہم غلطی پر ہوں جو انہیں حقیر سمجھ کر ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے، اور وہ حقیقتاً اچھے لوگ ہوں اور وہ اس عذاب سے بچ گئے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔