(آیت 61) {قَالُوْارَبَّنَامَنْقَدَّمَلَنَاهٰذَا …:} جب اس سے دل ٹھنڈا نہ ہو گا تو اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے، اے ہمارے پروردگار! جو بھی اس عذاب کو ہمارے آگے لایا ہے تو اسے آگ میں دگنا عذاب کر، ایک خود گمراہ ہونے کا اور دوسرا ہمیں گمراہ کرنے کا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَقَالَتْاُوْلٰىهُمْلِاُخْرٰىهُمْفَمَاكَانَلَكُمْعَلَيْنَامِنْفَضْلٍفَذُوْقُواالْعَذَابَبِمَاكُنْتُمْتَكْسِبُوْنَ» [الأعراف: ۳۸]”تو ان کی پچھلی جماعت اپنے سے پہلی جماعت کے متعلق کہے گی اے ہمارے رب! ان لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا، تو انھیں آگ کا دگنا عذاب دے۔ فرمائے گا سبھی کے لیے دگنا ہے اور لیکن تم نہیں جانتے۔“ اس آیت سے ملتی جلتی آیت کے لیے دیکھیے سورۂ احزاب (۶۷، ۶۸)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
61۔ 1 یعنی جنہوں نے ہمیں کفر کی دعوت دی اور اسے حق و صواب باور کرایا۔ یا جنہوں نے ہمیں کفر کی طرف بلا کر ہمارے لئے یہ عذاب آگے بھیجا۔ 61۔ 2 یہ وہی بات ہے جسے اور بھی کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے مثلًا (قَالَادْخُلُوْافِيْٓاُمَمٍقَدْخَلَتْمِنْقَبْلِكُمْمِّنَالْجِنِّوَالْاِنْسِفِيالنَّارِۭكُلَّمَادَخَلَتْاُمَّةٌلَّعَنَتْاُخْتَهَا ۭ حَتّٰىاِذَاادَّارَكُوْافِيْهَاجَمِيْعًا ۙ قَالَتْاُخْرٰىهُمْلِاُوْلٰىهُمْرَبَّنَاهٰٓؤُلَاۗءِاَضَلُّوْنَافَاٰتِهِمْعَذَابًاضِعْفًامِّنَالنَّارِ ڛ قَالَلِكُلٍّضِعْفٌوَّلٰكِنْلَّاتَعْلَمُوْنَ) 7۔ الاعراف:38) (رَبَّنَآاٰتِهِمْضِعْفَيْنِمِنَالْعَذَابِوَالْعَنْهُمْلَعْنًاكَبِيْرًا) 33۔ الاحزاب:68)۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
61۔ پھر وہ دعا کریں گے: ”اے ہمارے پروردگار! ہمارے لئے جو اس عذاب کا پیش رو بنا اسے [61] دوزخ میں دگنا عذاب دے“
[61] پھر یہ پیروی کرنے والا گروہ اپنے پیشواؤں سے توجہ ہٹا کر اپنے پروردگار سے درخواست کرے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ہماری گمراہی اور ہمیں یہاں جہنم میں لانے کا باعث بنے تھے۔ لہٰذا اے پروردگار! انہیں ہم سے دگنا عذاب دے۔ لیکن ان کی یہ التجا محض ایک طفل تسلی اور دل کی حسرت مٹانے کے طور پر ہو گی۔ جس کا کچھ فائدہ نہ ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔