ترجمہ و تفسیر — سورۃ ص (38) — آیت 45

وَ اذۡکُرۡ عِبٰدَنَاۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ اُولِی الۡاَیۡدِیۡ وَ الۡاَبۡصَارِ ﴿۴۵﴾
اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد کر، جو ہاتھوں والے اور آنکھوں والے تھے۔ En
اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد کرو جو ہاتھوں والے اور آنکھوں والے تھے
En
ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا بھی لوگوں سے ذکر کرو جو ہاتھوں اور آنکھوں والے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 45){ وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِيْمَ وَ اِسْحٰقَ …:} پہلے تین انبیاء کے تفصیلی ذکر کے بعد چند انبیاء کا اجمالی ذکر فرمایا۔ { الْاَيْدِيْ يَدٌ} کی جمع ہے، جو عربی زبان میں نعمت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور قوت کے معنی میں بھی۔ اس لحاظ سے ان انبیاء کے { اُولِي الْاَيْدِيْ } (ہاتھوں والے) ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ عبادت کی اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکی بڑی قوت رکھتے تھے اور یہ بھی کہ ان پر اللہ تعالیٰ کے بہت سے انعامات تھے۔ { الْاَبْصَارِ } (آنکھوں) کی تفسیر میں تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ اس سے مراد دینی بصیرت اور اللہ تعالیٰ کی معرفت ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

45۔ 1 یعنی عبادت الٰہی اور نصرت دین میں بڑے قوی اور دینی و علمی نصیرت میں ممتاز تھے بعض کہتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا خاص انعام و احسان ہوا یا یہ لوگوں پر احسان کرنے والے تھے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

45۔ اور ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کو یاد کیجئے جو بڑی قوت عمل رکھنے والے [52] اور صاحبان بصیرت تھے۔
[52] یعنی یہ تینوں پیغمبر اپنی پوری قوت سے دین کی سربلندی کے لئے جد و جہد کرتے رہے اور معصیت کے کاموں سے بچتے رہے۔ نیز وہ اللہ تعالیٰ کی ہر سو بکھری ہوئی آیات میں اور اللہ تعالیٰ کے احکام میں غور و فکر کرتے اور بصیرت حاصل کرتے تھے وہ حقیقت شناس تھے۔ اندھوں کی طرح نہیں چلتے تھے۔ بلکہ آنکھیں کھول کر علم و معرفت کی روشنی میں ہدایت کا سیدھا راستہ دیکھتے ہوئے چلتے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب صلواۃ اللہ وسلامہ علیہم اجمعین کا ذکر ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے عابد بندوں اور رسولوں کی فضیلتوں کو بیان فرما رہا ہے اور ان کے نام گنوا رہا ہے ابراہیم اسحاق اور یعقوب صلواۃ اللہ وسلامہ علیہم اجمعین اور فرماتا ہے کہ ان کے اعمال بہت بہتر تھے اور صحیح علم بھی ان میں تھا۔ ساتھ ہی عبادت الٰہی میں قوی تھے اور قدرت کی طرف سے انہیں بصیرت عطا فرمائی گئی تھی۔ دین میں سمجھدار تھے اطاعت اللہ میں قوی تھے حق کے دیکھنے والے تھے۔ ان کے نزدیک دنیا کی کوئی اہمیت نہ تھی صرف آخرت کا ہی ہر وقت خیال بندھا رہتا تھا۔ ہر عمل آخرت کے لیے ہی ہوتا تھا۔ دنیا کی محبت سے وہ الگ تھے، آخرت کے ذکر میں ہر وقت مشغول رہتے تھے۔ وہ اعمال کرتے تھے جو جنت دلوائیں، لوگوں کو بھی نیک اعمال کی ترغیب دیتے تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن بہترین بدلے اور افضل مقامات عطا فرمائے گا۔
یہ بزرگان دین اللہ کے چیدہ مخلص اور خاص الخاص بندے ہیں۔ اسماعیل اور ذوالکفل صلوات و سلامہ علیہم اجمعین بھی پسندیدہ اور خاص بندوں میں تھے۔ ان کے بیانات سورۃ انبیاء میں گذر چکے ہیں اس لیے ہم نے یہاں بیان نہیں کئے۔ ان فضائل کے بیان میں ان کے لیے نصیحت ہے جو پند و نصیحت حاصل کرنے کے لیے عادی ہیں اور یہ مطلب بھی ہے کہ یہ قرآن عظیم ذکر یعنی نصیحت ہے۔