اور اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک مٹھا (جھاڑو) لے اور اسے مار دے اور قسم نہ توڑ، بے شک ہم نے اسے صبر کرنے والا پایا، اچھا بندہ تھا۔ یقینا وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔
En
اور اپنے ہاتھ میں جھاڑو لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو۔ بےشک ہم نے ان کو ثابت قدم پایا۔ بہت خوب بندے تھے بےشک وہ رجوع کرنے والے تھے
اور اپنے ہاتھوں میں تنکوں کا ایک مٹھا (جھاڑو) لے کر مار دے اور قسم کے خلاف نہ کر، سچ تو یہ ہے کہ ہم نے اسے بڑا صابر بنده پایا، وه بڑا نیک بنده تھا اور بڑی ہی رغبت رکھنے واﻻ
En
اس آیت کی تفسیر آیت 43 میں تا آیت 45 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
44۔ 1 بیماری کے ایام میں خدمت گزار بیوی کسی بات سے ناراض ہو کر حضرت ایوب ؑ نے اسے سو کوڑے مارنے کی قسم کھائی تھی، صحت یاب ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا، سو تنکوں والی جھاڑو لے کر ایک مرتبہ اسے مار دے، تیری قسم پوری ہو جائیگی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
44۔ اور (ہم نے انہیں کہا کہ) اپنے ہاتھ میں تنکوں [51] کا ایک مٹھا لے، اس سے مار لو اور قسم نہ توڑ۔ ہم نے ایوب کو صابر پایا، بہترین بندے جو ہر وقت (اپنے پروردگار کی طرف) رجوع کرنے والے ہیں۔
[51] سیدنا ایوب کا اپنی بیوی کو سزا دینا:۔
آپ کی طویل بیماری (جو صحیح روایات کے مطابق 13 سال پر محیط ہے) کے دوران آپ کی سب بیویاں اور اولاد آپ کا ساتھ چھوڑ گئے تھے۔ کیونکہ تنگدستی بھی تھی اور بیماری بھی۔ آپ کی صرف ایک بیوی نے اس طویل عرصہ میں آپ کا ساتھ دیا۔ اس بیوی نے بھی ایک دن کوئی ایسی بات کہہ دی جس سے اللہ کی ناشکری ظاہر ہوتی تھی۔ سیدنا ایوبؑ کو بیوی کی اس بات پر طیش آگیا اور کہنے لگے کہ جب میں تندرست ہو گیا تو تمہاری اس ناشکری کی بات کی پاداش میں تمہیں سو لکڑیاں ماروں گا۔ اب یہ تو ظاہر بات ہے کہ ہر دکھ درد میں آپ کی شریک بیوی سے اگر کوئی ایسی بات نکل بھی گئی ہو تو وہ اتنی قصور وار نہ تھی کہ اسے سو لکڑیاں ماری جائیں۔ یہ تو صرف سیدنا ایوبؑ کی غیرت ایمانی کا تقاضا تھا اور اللہ تعالیٰ تو ہر ایک کو اس کی وسعت کے مطابق ہی تکلیف دیتا ہے۔ چنانچہ سیدنا ایوبؑ تندرست ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے خود انہیں تدبیر بتائی کہ ایک جھاڑو لو جس میں سو تنکے ہوں۔ اس سے بس ایک ہی معمولی سی ضرب لگاؤ۔ اور اس طرح اپنی قسم پوری کر لو۔ اس طرح سیدنا ایوبؑ کی قسم بھی پوری ہو گئی اور اس وفادار بیوی پر اللہ کی مہربانی کا تقاضا بھی پورا ہو گیا۔
شرعی حیلہ کس صورت میں جائز ہے:۔
یہاں ایک بحث یہ چل نکلی ہے کہ آیا شرعاً حیلہ کرنا جائز ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر اپنی ذات سے یا کسی دوسرے سے ظلم کو دفع کرنا مقصود ہو تو اس وقت شرعاً حیلہ کرنا جائز ہے اور اس کی دلیل ایک تو یہی آیت ہے۔ دوسرے اللہ تعالیٰ نے سیدنا یوسفؑ کو خود ایسی تدبیر بتائی تھی کہ جس سے ان کا چھوٹا بھائی بنیامین اپنے سوتیلے بھائیوں کے ظلم و ستم سے محفوظ رہے اور تیسرے درج ذیل حدیث بھی یہ وضاحت کرتی ہے: سعید بن سعد بن عبادہؓ کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ (یعنی سعید راوی کے باپ) ایک ناقص الخلقت بیمار شخص کو پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے کہ وہ محلہ کی لونڈیوں میں سے کسی کے ساتھ زنا کر رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھجور کی ایک بڑی ٹہنی پکڑ کر جس میں سو چھوٹی ٹہنیاں ہوں اور ایک مرتبہ اس کو مارو۔ [شرح السنہ بحوالہ مشکوٰۃ۔ کتاب الحدود الفصل الثانی] اور یہ حیلہ آپ نے اس لئے اختیار کیا کہ وہ سو درے کھانے کی تاب نہ رکھتا تھا۔ اور اس صورت میں اس کا مرجانا یقینی امر تھا۔ رہے ایسے حیلے جن سے کوئی شرعی حکمت یا مقصد فوت ہو رہا ہو تو ایسے حیلے قطعاً ناجائز بلکہ حرام ہیں جیسے زکوٰۃ کو ساقط کرنے کے لئے یہ حیلہ کرنا کہ سال پورا ہونے سے پہلے مال کا کچھ حصہ کسی دوسرے کو ہبہ کر دیا جائے پھر سال گزرنے پر اس سے وہی چیز اپنے حق میں ہبہ کرالی جائے۔ یا کسی عورت کو جبراً اپنے نکاح میں لانے کے لئے عدالت میں جھوٹی شہادتیں بھگتا کر اپنے حق میں فیصلہ لے لیا جائے اور ایسے بہت سے حیلے ہدایہ کی کتاب الحیل میں مذکور ہیں۔ امام بخاری نے ان کا تعاقب بھی کیا ہے کہ ان میں اکثر حیلے ناجائز بلکہ حرام ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔