(آیت 36) {فَسَخَّرْنَالَهُالرِّيْحَتَجْرِيْبِاَمْرِهٖ …:} یعنی ہم نے سلیمان علیہ السلام کی دعا قبول کر لی اور ایسی بادشاہی عطا کی جس میں ہوا ان کے تابع کر دی، وہ جہاں کا ارادہ کرتے ادھر نرم ہو کر چل پڑتی۔ سورۂ انبیاء (۸۱) میں اسے {”عَاصِفَةً“} (تند) بیان کیا ہے۔ ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں کہ ہوا نہایت تند و تیز ہو، مگر ایسی ہموار کہ جسے اٹھایا ہے اسے کوئی جھٹکا تک محسوس نہ ہو، جیسا کہ آج کل ہوائی جہازوں کا حال ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
36۔ 1 ہم نے سلیمان ؑ کی دعا قبول کرلی اور ایسی بادشاہی عطا کی جس میں ہوا بھی ان کے ماتحت تھی، جہاں ہوا کو نرمی سے چلنے والا بتایا ہے، جب کہ دوسرے مقام پر اسے تند و تیز کہا جس کا مطلب یہ ہے کہ ہوا پیدائشی قوت کے لحاظ سے تند ہے۔ لیکن سلیمان ؑ کے لئے اسے نرم کردیا گیا یا حسب ضرورت وہ کبھی تند ہوتی کبھی نرم، جس طرح حضرت سلیمان ؑ چاہتے (فتح القدیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
36۔ چنانچہ ہم نے ہوا کو ان کے تابع کر دیا۔ جہاں آپ کو پہنچنا ہوتا وہ آپ کے حکم پر نرمی کے ساتھ [42] چلتی تھی۔
[42] اس کی تفسیر کے لئے دیکھئے سورۃ انبیاء کی آیت 81 کا حاشیہ نمبر 69
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔