ترجمہ و تفسیر — سورۃ ص (38) — آیت 32

فَقَالَ اِنِّیۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَیۡرِ عَنۡ ذِکۡرِ رَبِّیۡ ۚ حَتّٰی تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ ﴿ٝ۳۲﴾
تو اس نے کہا بے شک میں نے اس مال کی محبت کو اپنے رب کی یاد کی وجہ سے دوست رکھا ہے ۔یہاں تک کہ وہ پردے میں چھپ گئے۔ En
تو کہنے لگے کہ میں نے اپنے پروردگار کی یاد سے (غافل ہو کر) مال کی محبت اختیار کی۔ یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا
En
تو کہنے لگے میں نے اپنے پروردگار کی یاد پر ان گھوڑوں کی محبت کو ترجیح دی، یہاں تک کہ (آفتاب) چھﭗ گیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 32) ➊ {فَقَالَ اِنِّيْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّيْ: الْخَيْرِ } کا معنی تو بھلائی ہے، مگر عموماً اس سے مراد مال ہوتا ہے، جیسا کہ انسان کے متعلق فرمایا: «وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌ» ‏‏‏‏ [العادیات: ۸] اور بے شک وہ مال کی محبت میں یقینا بہت سخت ہے۔ یہ لفظ عموماً زیادہ مال پر بولا جاتا ہے۔ یہاں { الْخَيْرِ } سے مراد وہ اصیل اور تیز رفتار گھوڑے ہیں جو پچھلے پہر ان کے سامنے پیش کیے گئے۔ { الْخَيْرِ } پر الف لام عہد کا ہے، اس لیے { حُبَّ الْخَيْرِ } کا ترجمہ اس مال کی محبت کیا گیا ہے۔ { عَنْ } یہاں سببیہ ہے، جس کا معنی کی وجہ سے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ» ‏‏‏‏ [التوبۃ: ۱۱۴] اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا نہیں تھا مگر اس وعدے کی وجہ سے جو اس نے اس سے کیا تھا۔
➋ اس آیت میں سلیمان علیہ السلام کی جہاد سے محبت اور اس کے لیے گھوڑے پالنے اور ان کی تربیت کا ذکر فرمایا ہے، اس مقصد کے لیے انھوں نے بڑی تعداد میں اعلیٰ نسل کے تیز رفتار گھوڑے پال رکھے تھے۔ ایک دن پچھلے پہر ان کے سامنے اعلیٰ نسل کے وہ اصیل گھوڑے پیش کیے گئے جو کھڑے ہونے کی حالت میں اپنی طبیعت کی نفاست اور نزاکت کی وجہ سے تین ٹانگوں پر کھڑے ہوتے تھے، جبکہ چوتھی ٹانگ کے صرف کُھر کا کنارہ زمین پر لگتا تھا، مگر دوڑنے میں بہت تیز رفتار تھے، تو سلیمان علیہ السلام نے اتنے قیمتی گھوڑے رکھنے اور اپنے اوقاتِ عزیزہ ان کے معائنے اور دوڑانے میں صرف کرنے کی وجہ بیان کرنا ضروری سمجھا، تاکہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ یہ محض شاہانہ شان و شوکت کے اظہار کے لیے ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ میں نے اس مال یعنی گھوڑوں کی محبت کو دوست رکھا ہے اور اختیار کیا ہے تو اپنے رب کے ذکر کی وجہ سے کہ ان کے ساتھ جہاد کرکے اپنے رب کا ذکر دنیا بھر میں پھیلاؤں اور اس کا بول سب پر بالا کروں۔
➌ { حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ: تَوَارَتْ } اصل میں {تَوَارَيَتْ} ہے، {تَوَارٰي يَتَوَارٰي تَوَارِيًا} (تفاعل) (چھپ جانا) سے واحد مؤنث غائب ماضی معلوم کا صیغہ ہے، جو گھوڑوں کی جماعت پر بولا گیا ہے۔ یعنی گھوڑوں کی وہ جماعت نگاہ سے پردے میں چھپ گئی۔ { حَتّٰى } (یہاں تک کہ) کا لفظ بتا رہا ہے کہ اس سے پہلے کچھ عبارت محذوف ہے، جو یہ ہے کہ سلیمان علیہ السلام کے حکم پر ان کی دوڑ لگوائی گئی، یہاں تک کہ وہ نگاہ سے پردے میں چھپ گئے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

32۔ تو کہا: میں نے اس مال کو اپنے پروردگار کی یاد کی بنا پر پسند کیا ہے۔ حتیٰ کہ وہ رسالہ آپ کے سامنے سے [40] اوجھل ہو گیا۔
[40] سیدنا سلیمان کے ہاں پیش کئے جانے والے گھوڑے:۔
تو ارت میں واحد مونث کی ضمیر کس طرف راجع ہے؟ اس میں اختلاف کی وجہ سے اس آیت کی تفسیر میں بھی خاصا اختلاف واقع ہوا ہے۔ ﴿تَوَارَتْ بالْحِجَابِ سے بعض مفسرین نے یہ مراد لی ہے کہ جب گھوڑوں کا رسالہ نظروں سے چھپ گیا۔ اور بعض نے یہ مراد لی ہے کہ جب سورج غروب ہو گیا۔ پہلے معنی کے لحاظ سے تفسیر یہ کی جاتی ہے کہ ایک دن پچھلے پہر سیدنا سلیمانؑ اپنے گھوڑوں کا معائنہ کر رہے تھے پھر ان کی دوڑ کرائی تا آنکہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گئے چونکہ یہ سارا سلسلہ جہاد کی خاطر تھا اس لئے آپ اس شغل سے بہت محظوظ ہوئے اور کہنے لگے کہ میں نے اپنے پروردگار کی یاد کی وجہ سے ہی یہ شغل پسند کیا ہے۔ پھر گھوڑے اپنے پاس طلب کئے اور شفقت سے ان کی گردنوں اور ان کی پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے تفسیر یہ ہے کہ آپؑ گھوڑوں کے شغل میں اتنے محو ہوئے کہ سورج ڈوب گیا اور اس شغل نے آپ کو اللہ کی یاد یعنی نماز سے غافل کر دیا۔ اس واقعہ سے آپؑ کو بہت دکھ ہوا۔ آپؑ نے گھوڑوں کو طلب کیا اور ان کی گردنیں اور پنڈلیاں کاٹنا شروع کر دیں اور چند گھوڑے کاٹ کر ان کا گوشت محتاجوں میں تقسیم کر دیا۔ چونکہ آپؑ نے یہ کام اللہ کی محبت کی خاطر کیا تھا اس لئے اللہ نے آپؑ کو یہ صلہ دیا کہ ہواؤں کو آپ کے تابع کر دیا اور آپؑ کو گھوڑوں کے رسالے کی اتنی احتیاج ہی نہ رہی جتنی پہلے تھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔