(آیت 20) {وَشَدَدْنَامُلْكَهٗوَاٰتَيْنٰهُالْحِكْمَةَ …: ”الْحِكْمَةَ“} کے مفہوم میں نبوت، کتاب اللہ کا علم اور معاملات کی فہم و فراست، سب چیزیں شامل ہیں اور {”فَصْلَالْخِطَابِ“} سے مراد ہے مقدمہ سن کر صحیح، واضح اور دو ٹوک فیصلہ کرنا۔ {”فَصْلَالْخِطَابِ“} میں یہ بھی شامل ہے کہ لمبی بات کو مختصر الفاظ میں ایسے طریقے سے بیان کیا جائے کہ ہر شخص کو پوری طرح سمجھ میں آ جائے۔ ان دونوں چیزوں کے لیے اعلیٰ درجے کی عقل اور فہم و فراست کے ساتھ قادر الکلام ہونا بھی ضروری ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
20۔ 1 ہر طرح کی مادی اور روحانی اسباب کے ذریعے سے۔ 20۔ 2 یعنی، نبوت، اصبات رائے، قول سداد اور نیک کام۔ 20۔ 3 یعنی مقدمات کے فیصلے کرنے کی صلاحیت، بصیرت اور استدلال وبیان کی قوت۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
20۔ ہم نے ان کی سلطنت کو مضبوط بنا دیا تھا، ہم نے انہیں حکمت عطا کی اور مقدمات [23] کے فیصلہ کی استعداد بخشی تھی۔
[23] اس کا مطلب تو ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ خطاب یا تقریر یا باہمی گفتگو کے درمیان آپ کا انداز گفتگو ایسا مدلل، سادہ اور عام فہم ہوتا تھا کہ مخاطب آسانی سے آپ کا ما فی الضمیر سمجھ جاتا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔