ترجمہ و تفسیر — سورۃ ص (38) — آیت 19

وَ الطَّیۡرَ مَحۡشُوۡرَۃً ؕ کُلٌّ لَّہٗۤ اَوَّابٌ ﴿۱۹﴾
اور پرندوں کو بھی، جب کہ وہ اکٹھے کیے ہو تے، سب اس کے لیے رجوع کرنے والے تھے۔ En
اور پرندوں کو بھی کہ جمع رہتے تھے۔ سب ان کے فرمانبردار تھے
En
اور پرندوں کو بھی جمع ہو کر سب کے سب اس کے زیر فرمان رہتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 18 میں تا آیت 20 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

19۔ 1 یعنی اشراق کے وقت اور آخر دن کو پہاڑ بھی داؤد ؑ کے ساتھ مصروف تسبیح ہوتے اور اڑتے جانور بھی زبور کی قرأت سن کر ہوا ہی میں جمع ہوجاتے اور ان کے ساتھ اللہ کی تسبیح کرتے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ اور پرندوں کو بھی جو جمع ہو جاتے تھے وہ سب ان کی تسبیح کی طرف متوجہ [22] ہو جاتے تھے۔
[22] سیدنا داؤد کی خوش الحانی:۔
اللہ نے آپ کو ایسی سریلی آواز بخشی تھی کہ اس میں ایسی شرینی اور تاثیر تھی کہ جب آپ ہر روز پہلے پہر اور پچھلے پہر اللہ کی حمد کے ترانے گاتے تو پوری فضا مسحور ہو جاتی تھی۔ پہاڑوں کی وادیوں میں ایسی گونج پیدا ہو جاتی تھی اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ پہاڑ بھی آپ کے ساتھ اللہ کی حمد و ثنا میں شریک ہو گئے ہیں۔ اور پرندوں تک آپ کے گرد و پیش میں جمع ہو کر آپ کے نغمات نہایت توجہ سے سنتے اور چہچہا کر آپ کے ہم آہنگ ہو جاتے تھے۔ آپ کی اس خوش الحانی کا ذکر پہلے سورۃ المومنون کی آیت 79 میں بھی گزر چکا ہے۔ اور سورۃ سبا کی آیت نمبر 10 میں بھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔