(آیت 16) {وَقَالُوْارَبَّنَاعَجِّلْلَّنَاقِطَّنَا …:”قَطَّيَقُطُّقَطًّا“} (ن) قلم وغیرہ کا سرا کاٹنا۔ {”قِطٌّ“} حصے کو کہتے ہیں، کیونکہ ہر ایک کو اس کا حصہ کاٹ کر دیا جاتا ہے۔ انعام کے لیے کاغذ کا جو ٹکڑا لکھ کر دیا جاتا ہے اسے بھی {”قِطٌّ“} کہتے ہیں۔ مراد عذاب میں سے ان کا حصہ ہے، بعض نے اعمال نامہ مراد لیا ہے۔ یعنی کفار قیامت کو ناممکن سمجھ کر اس کا انکار کرتے ہوئے اور اس کا مذاق اڑاتے ہوئے جرأت کی اس حد تک پہنچ گئے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کی ربوبیت کے واسطے سے دعا کرتے ہوئے کہنے لگے، اے ہمارے رب! عذاب میں سے ہمارا جو حصہ ہے وہ ہمیں یوم حساب سے پہلے ابھی جلدی دے دے، جیسا کہ ابوجہل وغیرہ نے نہایت دیدہ دلیری سے کہا تھا: «اللّٰهُمَّاِنْكَانَهٰذَاهُوَالْحَقَّمِنْعِنْدِكَفَاَمْطِرْعَلَيْنَاحِجَارَةًمِّنَالسَّمَآءِاَوِائْتِنَابِعَذَابٍاَلِيْمٍ» [الأنفال: ۳۲]”اے اللہ! اگر صرف یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
16۔ 1 یعنی ہمارے نامہ اعمال کے مطابق ہمارے حصے میں اچھی یا بری سزا جو بھی ہے، یوم حساب آنے سے پہلے ہی دنیا میں دے دے۔ یہ و قوع قیامت کو ناممکن سمجھتے ہوئے انہوں نے تمسخر کے طور پر کہا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
16۔ اور کہتے ہیں: ”پروردگار! ہمیں ہماری چارج شیٹ جلدی کر کے روز حساب [18] سے پہلے ہی دے دے“
[18] کفار کا مطالبہ ہمارا اعمال نامہ ابھی دیا جائے:۔
چونکہ کفار مکہ بعث بعد الموت، روز آخرت، اعمال نامہ اور حساب کتاب سب باتوں کے منکر تھے۔ اس لئے از راہ مذاق جس طرح یہ کہتے تھے کہ جس عذاب کی تم دھمکی دیتے ہو وہ لے کیوں نہیں آتے؟ اسی طرح یہ بھی کہتے تھے کہ ہمارا اعمال نامہ جو ہمیں قیامت کے دن ملنا ہے ابھی ہمارے حوالے کر دیں اور ہمارے حصے جو شامت لکھی ہوئی ہے وہ اس دنیا میں ہی ہم سے حساب لے لے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔