ترجمہ و تفسیر — سورۃ ص (38) — آیت 15

وَ مَا یَنۡظُرُ ہٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیۡحَۃً وَّاحِدَۃً مَّا لَہَا مِنۡ فَوَاقٍ ﴿۱۵﴾
اور یہ لوگ کسی چیز کا انتظار نہیں کر رہے سوائے ایک سخت چیخ کے، جس میں کو ئی وقفہ نہ ہو گا ۔ En
اور یہ لوگ تو صرف ایک زور کی آواز کا جس میں (شروع ہوئے پیچھے) کچھ وقفہ نہیں ہوگا، انتظار کرتے ہیں
En
انہیں صرف ایک چیﺦ کا انتظار ہے جس میں کوئی توقف (اور ڈھیل) نہیں ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 15) {وَ مَا يَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَيْحَةً …: يَنْظُرُ } یہاں {يَنْتَظِرُ} کے معنی میں ہے۔ { صَيْحَةً وَّاحِدَةً } (ایک سخت چیخ) سے مراد دوسری دفعہ صور کے نفخہ سے پیدا ہونے والی آواز ہے، کیونکہ پہلے نفخہ کے وقت تک زندہ و موجود رہنے کا انتظار تو کوئی بھی نہیں کرتا۔ { فَوَاقٍ مَا بَيْنَ الْحَلْبَتَيْنِ مِنَ الْوَقْتِ أَوْ مَا بَيْنَ فَتْحِ يَدِكَ وَ قَبْضِهَا عَلَي الضَّرْعِ} (قاموس) دو دفعہ دودھ دوہنے کے درمیان کا وقفہ یا دودھ دوہتے وقت تھن کو پکڑنے اور چھوڑنے کا درمیانی وقفہ۔ مراد تھوڑا سا وقفہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والے یہ لوگ ایک سخت چیخ کے انتظار میں ہیں، جو شروع ہو گی تو اس میں اس وقت تک کوئی وقفہ نہیں ہو گا جب تک تمام لوگ زندہ ہو کر اللہ کے حضور پیش نہیں ہو جائیں گے، فرمایا: «‏‏‏‏اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِيْعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُوْنَ» ‏‏‏‏ [یٰسٓ: ۵۳] نہیں ہو گی وہ مگر ایک ہی چیخ، تو اچانک وہ سب ہمارے پاس حاضر کیے ہوئے ہوں گے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

15۔ 1 یعنی صور پھونکنے کا جس سے قیامت برپا ہوجائے گی۔ 15۔ 2 صور پھونکنے کی دیر ہوگی کہ قیامت کا زلزلہ برپا ہوجائے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ یہ لوگ بس ایک دھماکہ کے منتظر ہیں جس میں کوئی وقفہ [17] نہیں ہو گا
[17] فواق کا لغوی معنی:۔
فواق در اصل دودھ دوہتے وقت گائے کا ایک دفعہ تھن نچوڑنے اور دوسری دفعہ وہی تھن نچوڑنے کے درمیان کے وقفہ کو کہتے ہیں۔ اور اس سے مراد انتہائی قلیل مدت لی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جب یہ دھماکہ یا کڑکا ہو گا تو یہ اس وقت تک مسلسل ہوتا رہے گا جب تک سارے مجرم ڈھیر نہ ہو جائیں اور اس میں معمولی سا وقفہ بھی نہ ہو گا۔ اور دوسرا مطلب یہ کہ انہیں ہلاک کرنے کے لئے ایک کڑکا ہی کافی ہو گا دوسرے کی نوبت یا حاجت ہی پیش نہ آئے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔