(آیت 94) {فَاَقْبَلُوْۤااِلَيْهِيَزِفُّوْنَ: ”زَفَّيَزِفُّزَفًّاوَزُفُوْفًاوَزَفِيْفًا“} (ض) تیزی سے جانا، دوڑنا۔ یعنی بتوں کا یہ حال دیکھ کر قوم کو یہ جاننے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی کہ ان کا یہ حال کس نے کیا ہے، کیونکہ ابراہیم علیہ السلام انھیں پہلے ہی اپنے ارادے سے آگاہ کر چکے تھے، اس لیے وہ سب دوڑتے ہوئے ان کے پاس آئے اور انھیں پکڑ کر مجمع میں لے آئے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انبیاء (۵۹ تا ۶۱)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
94۔ 1 یعنی جب میلے سے آئے تو دیکھا کہ ان کے معبود ٹوٹے پھوٹے پڑے ہیں تو فوراً ان کا ذہن حضرت ابراہیم ؑ کی طرف گیا، کہ یہ کام اسی نے کیا ہوگا، جیسا کہ سورة انبیاء میں تفصیل گزر چکی ہے چناچہ انہیں پکڑ کر عوام کی عدالت میں لے آئے۔ وہاں حضرت ابراہیم ؑ کو اس بات کا موقع مل گیا کہ وہ ان پر ان کی بےعقلی اور ان کے معبودوں کی بےاختیاری واضح کریں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
94۔ (واپس آکر انہوں نے جو یہ صورت حال دیکھی) تو دوڑتے ہوئے ابراہیم کے پاس آئے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔