ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 93

فَرَاغَ عَلَیۡہِمۡ ضَرۡبًۢا بِالۡیَمِیۡنِ ﴿۹۳﴾
پھر وہ دائیں ہاتھ سے مارتے ہوئے ان پر پل پڑا۔ En
پھر ان کو داہنے ہاتھ سے مارنا (اور توڑنا) شروع کیا
En
پھر تو (پوری قوت کے ساتھ) دائیں ہاتھ سے انہیں مارنے پر پل پڑے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 93){ فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًۢا بِالْيَمِيْنِ: يَمِيْنٌ} کا معنی دایاں ہاتھ بھی ہے اور قوت بھی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انبیاء کی آیت (۵۸) کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

93۔ 1 مطلب یہ ہے کہ ان کو زور سے مار مار کر توڑ ڈالا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

93۔ پھر ان پر پل پڑے اور دائیں ہاتھ سے خوب ضربیں [51] لگائیں
[51] سیدنا ابراہیمؑ کا بتوں کو توڑ پھوڑ دینا:۔
اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ سیدنا ابراہیمؑ کتنی مدت سے ایسے موقعہ کے منتظر تھے۔ ادھر قوم کے لوگ میلہ منانے چلے گئے ادھر آپ سب سے بڑے مندر کا دروازہ کھول کر اس میں داخل ہو گئے۔ بتوں کی طرف غصہ سے متوجہ ہو کر کہنے لگے۔ بد بختو! تمہارے سامنے مٹھائیاں اور کھانے پڑے ہیں انہیں کھاتے کیوں نہیں؟ کچھ بولو تو سہی، کچھ جواب تو دو؟ ان بے جان پتھروں نے کیا جواب دینا تھا۔ اس پر سیدنا ابراہیمؑ کو اور بھی زیادہ غصہ آیا۔ ایک کلہاڑا لیا۔ اور سب بتوں کو خوب جی بھر کے ضربیں لگانا شروع کیں۔ سب کو توڑ پھوڑ دیا۔ البتہ سب سے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔ اس کے کندھے پر کلہاڑا رکھ دیا تاکہ یہ معلوم ہو کہ یہ سب اس بڑے بت کی کارستانی ہے پھر مندر کا دروازہ بند کر کے باہر نکل آئے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔