(آیت 86){ اَىِٕفْكًااٰلِهَةًدُوْنَاللّٰهِتُرِيْدُوْنَ: ”ىِٕفْكًا“} مصدر بمعنی اسم مفعول برائے مبالغہ ہے اور {”اٰلِهَةً“} اس سے بدل ہے۔ {”ىِٕفْكًا“} کو اصل معنی میں لیں تو یہ مفعول لہٗ بن جائے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
86۔ 1 یعنی اپنی طرف سے گھڑ کے کہ یہ معبود ہیں، تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو، درآں حالیکہ یہ پتھر اور مورتیاں ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
86۔ کیا تم اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ موٹ گھڑے ہوئے الٰہ چاہتے ہو؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔