ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 86

اَئِفۡکًا اٰلِہَۃً دُوۡنَ اللّٰہِ تُرِیۡدُوۡنَ ﴿ؕ۸۶﴾
کیا اللہ کو چھوڑ کر گھڑے ہوئے معبودوں کو چاہتے ہو؟ En
کیوں جھوٹ (بنا کر) خدا کے سوا اور معبودوں کے طالب ہو؟
En
کیا تم اللہ کے سوا گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 86){ اَىِٕفْكًا اٰلِهَةً دُوْنَ اللّٰهِ تُرِيْدُوْنَ: ىِٕفْكًا } مصدر بمعنی اسم مفعول برائے مبالغہ ہے اور { اٰلِهَةً } اس سے بدل ہے۔ { ىِٕفْكًا } کو اصل معنی میں لیں تو یہ مفعول لہٗ بن جائے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

86۔ 1 یعنی اپنی طرف سے گھڑ کے کہ یہ معبود ہیں، تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو، درآں حالیکہ یہ پتھر اور مورتیاں ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

86۔ کیا تم اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ موٹ گھڑے ہوئے الٰہ چاہتے ہو؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔