(آیت 84){ اِذْجَآءَرَبَّهٗبِقَلْبٍسَلِيْمٍ:} جب اس نے نوح علیہ السلام کی طرح شرک، شک، منافقت، حسد، بغض، سرکشی اور ہر روگ سے پاک دل لے کر نہایت اخلاص اور عاجزی کے ساتھ اپنے رب کی طرف رجوع کیا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
84۔ جبکہ وہ اپنے پروردگار کے ہاں صاف [48] دل لے کر آئے
[48] یعنی اپنے معاشرہ، اپنے ماحول، اپنے گھر والوں سب قسم کے لوگوں کے عقائد و رسومات سے بالکل خالی الذہن ہو کر اپنے آپ کو اپنے پروردگار کے حوالے کر دیا کہ جو کچھ تیری طرف سے ہدایت یا حکم ملے میں اسے بلا چوں و چرا تسلیم کروں گا اور سر تسلیم خم کر دوں گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اب بھی سنبھل جاؤ ٭٭
ابراہیم علیہ السلام بھی نوح علیہ السلام کے دین پر تھے، انہی کے طریقے اور چال چلن پر تھے۔ اپنے رب کے پاس سلامت دل لے گئے یعنی توحید والا جو اللہ کو حق جانتا ہو۔ قیامت کو آنے والی مانتا ہو۔ مردوں کو دوبارہ جینے والا سمجھتا ہو۔ شرک و کفر سے بیزار ہو، دوسروں پر لعن طعن کرنے والا نہ ہو۔ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی تمام قوم سے اور اپنے سگے باپ سے صاف فرمایا کہ یہ تم کس کی پوجا پاٹ کر رہے ہو؟ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت چھوڑ دو اپنے ان جھوٹ موٹھ کے معبودوں کی عبادت چھوڑ دو۔ ورنہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ کیا کچھ نہ کرے گا اور تمہیں کیسی کچھ سخت ترین سزائیں دیگا؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔