ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 83

وَ اِنَّ مِنۡ شِیۡعَتِہٖ لَاِبۡرٰہِیۡمَ ﴿ۘ۸۳﴾
اور بے شک اس کے گروہ میں سے یقینا ابراہیم (بھی) ہے۔ En
اور ان ہی کے پیرووں میں ابراہیم تھے
En
اور اس (نوح علیہ السلام کی) تابعداری کرنے والوں میں سے (ہی) ابراہیم (علیہ السلام بھی) تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 83) {وَ اِنَّ مِنْ شِيْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِيْمَ: شِيْعَةٌ شَاعَ يَشِيْعُ شِيَاعًا} (ض) سے مشتق ہے، جس کا معنی ساتھ دینا ہے، ایسی جماعت جو کسی کا ساتھ دے۔ یعنی نوح علیہ السلام کا ساتھ دینے والے گروہ میں سے ابراہیم علیہ السلام بھی ہیں، کیونکہ وہ بھی توحید، آخرت اور دین کی تمام بنیادی چیزوں کے متعلق وہی عقائد و اعمال رکھتے تھے جو نوح علیہ السلام کے تھے، بلکہ تمام انبیاء کا اصل دین ایک ہی ہے جس کا نام اسلام ہے اور سب کی امتیں ایک امت ہیں جس کا نام امتِ مسلمہ ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ» ‏‏‏‏ [المؤمنون: ۵۲] اور بے شک یہ تمھاری امت ہے، جو ایک ہی امت ہے اور میں تمھارا رب ہوں، سو مجھ سے ڈرو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

83۔ 1 شِیْۃً کے معنی گروہ اور پیروکار کے ہیں۔ یعنی ابراہیم ؑ بھی اہل دین و اہل توحید کے اسی گروہ سے ہیں جن کو نوح ؑ ہی کی طرح قائم مقام الی اللہ کی توفیق خاص نصیب ہوئی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

83۔ اور اسی (نوح) کے پیروؤں [47] میں سے ابراہیم بھی تھے
[47] شیعہ کا لغوی مفہوم:۔
یہاں لفظ شیعہ استعمال ہوا ہے۔ شیعہ ایسے فرقہ یا پارٹی کو کہتے ہیں جن کے عقائد آپس میں ملتے جلتے ہوں مگر دوسروں سے مختلف ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ توحید اور معاد کے بارے میں سیدنا ابراہیمؑ کے بھی وہی عقائد تھے جو سیدنا نوحؑ کے تھے۔ اور یہ تو واضح سی بات ہے کہ تمام انبیاء کی اصولی تعلیم ایک ہی جیسی رہی ہے۔ اور اسی اصولی تعلیم کا نام دین ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اب بھی سنبھل جاؤ ٭٭
ابراہیم علیہ السلام بھی نوح علیہ السلام کے دین پر تھے، انہی کے طریقے اور چال چلن پر تھے۔ اپنے رب کے پاس سلامت دل لے گئے یعنی توحید والا جو اللہ کو حق جانتا ہو۔ قیامت کو آنے والی مانتا ہو۔ مردوں کو دوبارہ جینے والا سمجھتا ہو۔ شرک و کفر سے بیزار ہو، دوسروں پر لعن طعن کرنے والا نہ ہو۔ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی تمام قوم سے اور اپنے سگے باپ سے صاف فرمایا کہ یہ تم کس کی پوجا پاٹ کر رہے ہو؟ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت چھوڑ دو اپنے ان جھوٹ موٹھ کے معبودوں کی عبادت چھوڑ دو۔ ورنہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ کیا کچھ نہ کرے گا اور تمہیں کیسی کچھ سخت ترین سزائیں دیگا؟