ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 80

اِنَّا کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۸۰﴾
بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔ En
نیکوکاروں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں
En
ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 80) {اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ:} احسان اللہ تعالیٰ کی عبادت میں بھی ہوتا ہے اور بندوں کے ساتھ بھی۔ اللہ کی عبادت میں احسان کا ذکر حدیثِ جبریل میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ] [بخاري، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي صلی اللہ علیہ وسلم …: ۵۰] (احسان یہ ہے) کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، تو اگر تُو اسے نہیں دیکھتا تو یقینا وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ بندوں کے ساتھ احسان کا ذکر قارون کو اس کی قوم کی نصیحت میں ہے، فرمایا: «وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَيْكَ» ‏‏‏‏ [القصص: ۷۷] جس طرح اللہ نے تجھ پر احسان کیا تو بھی احسان کر۔ یعنی کسی معاوضے کی خواہش کے بغیر ان سے نیکی کر۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے نوح علیہ السلام کو جزا دی، ان کی دعا قبول کی، انھیں اور ان کے اہل کو بہت بڑی مصیبت سے نجات دی اور ان پر سلام کو تاقیامت جاری رکھا، ایسے ہی ہم سب احسان کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کے لیے بہت بڑی خوش خبری ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

80۔ 1 یعنی جس طرح نوح ؑ کی دعا قبول کرکے، ان کی ذریت کو باقی رکھ کے اور پچھلوں میں ان کا ذکر خیر باقی رکھ کے ہم نے نوح ؑ کو عزت و تکریم بخشی۔ اسی طرح جو بھی اپنے اقوال و افعال میں محسن اور اس باب میں راسخ اور معروف ہوگا، اس کے ساتھ بھی ہم ایسا معاملہ کریں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

80۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسے ہی صلہ دیا کرتے ہیں

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔