(آیت 8){ لَايَسَّمَّعُوْنَاِلَىالْمَلَاِالْاَعْلٰى …: ”لَايَسَّمَّعُوْنَ“} اصل میں {”لَايَتَسَمَّعُوْنَ“} (تفعّل) ہے۔ ”اوپر کی مجلس“ سے مراد فرشتوں کی مجلس ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی تنفیذ کے لیے آپس میں گفتگو کرتے ہیں کہ آئندہ فلاں کام کب اور کیسے کرنا ہے۔ یعنی ان ستاروں کے ذریعے سے سرکش شیاطین سے فرشتوں کی باتیں محفوظ رکھنے کا اتنا زبردست انتظام ہے کہ وہ ان کی مجلس کی طرف کان بھی نہیں لگا سکتے، بلکہ ان پر ہر جانب سے شہاب پھینکے جاتے ہیں۔ اگر {”اِلَّامَنْخَطِفَالْخَطْفَةَ“} کا استثنا نہ ہوتا تو یہ آیت دلیل تھی کہ وہ کچھ بھی نہیں سن سکتے، مگر اللہ تعالیٰ نے خود ہی {”اِلَّامَنْخَطِفَالْخَطْفَةَ“} (مگر جو کوئی اچانک اچک کر لے جائے) کے ساتھ استثنا فرما دیا، جو آگے آرہا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ وہ عالم بالا کی باتیں سن ہی نہیں سکتے اور ہر طرف سے ان پر (شہاب) پھینکے [5] جاتے ہیں
[5] دور نبوی میں کہانت کا چرچا:۔
دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں عرب میں کہانت کا بڑا چرچا تھا اور کاہنوں کو معاشرہ میں ایک معزز مقام حاصل تھا۔ ان کے متعلق مشہور یہ تھا کہ جن اور شیطان کاہنوں کے قبضہ میں ہوتے ہیں جو انہیں غیب کی خبریں مہیا کرتے ہیں۔ اچھے بھلے لوگ ان کے ہاں آتے اور ان کی خدمات حاصل کرتے تھے حتیٰ کہ بعض دفعہ اپنے مقدمات کے فیصلے کے لئے ان کے ہاں آتے تھے۔ ایسے ہی ایک کاہن کا واقعہ احادیث میں بھی مذکور ہے۔ قرآن جب نازل ہوا تو اس میں کچھ سابقہ انبیاء و اقوام کے حالات تھے اور کچھ آئندہ کی خبریں بھی تھیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ بھی بتایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فرشتہ آتا ہے جو آپ پر یہ کلام نازل کرتا ہے۔ ان ساری باتوں سے ان لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ شاید وہ دوسرے کاہنوں کی طرح آپ کے پاس بھی کوئی جن یا شیطان آتا ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ آپ بیمار ہوئے تو دو تین راتیں تہجد کی نماز کے لیے اٹھ نہ سکے تو ابو لہب کی بیوی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگی۔ میں سمجھتی ہوں کہ تیرے شیطان نے تجھے چھوڑ دیا ہے۔ [بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورۃ والضحیٰ] اور اسی وجہ سے وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کاہن ہی سمجھتے تھے۔ اگلی دو آیات میں ان کے اسی غلط نظریہ کی تردید کی گئی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔