(آیت 72) {وَلَقَدْاَرْسَلْنَافِيْهِمْمُّنْذِرِيْنَ:} یعنی پہلے اکثر لوگوں کے گمراہ ہونے کا باعث یہ نہیں تھا کہ ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ان میں بہت سے ڈرانے والے بھیجے، جو انھیں کفرو شرک اور اللہ کی حدود سے تجاوز کے برے انجام سے ڈراتے تھے۔ مگر انھوں نے حق قبول نہیں کیا، بلکہ باپ دادا کی تقلید پر جمے رہے اور اندھا دھند پہلوں کے نقش قدم پر دوڑتے گئے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
72۔ 1 یعنی ان سے پہلے لوگوں میں۔ انہوں نے حق کا پیغام پہنچایا اور عدم قبول کی صورت میں انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا، لیکن ان پر کوئی اثر نہیں ہوا اور انہیں تباہ کردیا گیا، جیسا کہ اگلی آیت میں ان کے عبرت ناک انجام کی طرف اشارہ فرمایا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
72۔ بلا شبہ ہم نے ان میں ڈرانے والے بھیجے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سابقہ امتیں ٭٭
گذشتہ امتوں میں بھی اکثر لوگ گم کردہ راہ پر تھے اللہ کے ساتھ شریک کرتے تھے۔ ان میں بھی اللہ کے رسول آئے تھے۔ جنہوں نے انہیں ہوشیار کر دیا تھا اور ڈرا دھمکا دیا تھا اور بتلا دیا تھا کہ ان کے شرک و کفر اور تکذیب رسول سے بری طرح اللہ تعالیٰ ناراض ہے۔ اور اگر وہ باز نہ آئے تو انہیں عذاب ہوں گے۔ پھر بھی جب انہوں نے نبیوں کی نہ مانی اپنی برائی سے باز نہ آئے تو دیکھ لو کہ ان کا کیا انجام ہوا؟ تہس نہس کر دئیے گئے تباہ برباد کر دئیے گئے۔ ہاں نیک کار خلوص والے اللہ کے موحد بندے بچا لیے گئے اور عزت کے ساتھ رکھے گئے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔