(آیت 71) ➊ {وَلَقَدْضَلَّقَبْلَهُمْاَكْثَرُالْاَوَّلِيْنَ:} اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور داعیان حق کو تسلی دی ہے کہ ان کے ایمان نہ لانے پر زیادہ پریشان نہ ہوں، ان سے پہلے بھی اکثر لوگ گمراہ ہوئے۔ اگر یہ گمراہ ہیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ ➋ اس سے معلوم ہوا کہ حق کی پیروی کرنے والی ایک جماعت ہمیشہ موجود رہی ہے، اگرچہ اکثریت گمراہوں کی رہی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
71۔ 1 یعنی یہی گمراہ نہیں ہوئے، ان سے پہلے لوگ بھی اکثر گمراہی پانے کے باوجود یہ انہی کے نقشے قدم پر چلنے والے تھے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
71۔ حالانکہ ان سے پہلے بہت سے گزشتہ لوگ گمراہ ہو چکے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سابقہ امتیں ٭٭
گذشتہ امتوں میں بھی اکثر لوگ گم کردہ راہ پر تھے اللہ کے ساتھ شریک کرتے تھے۔ ان میں بھی اللہ کے رسول آئے تھے۔ جنہوں نے انہیں ہوشیار کر دیا تھا اور ڈرا دھمکا دیا تھا اور بتلا دیا تھا کہ ان کے شرک و کفر اور تکذیب رسول سے بری طرح اللہ تعالیٰ ناراض ہے۔ اور اگر وہ باز نہ آئے تو انہیں عذاب ہوں گے۔ پھر بھی جب انہوں نے نبیوں کی نہ مانی اپنی برائی سے باز نہ آئے تو دیکھ لو کہ ان کا کیا انجام ہوا؟ تہس نہس کر دئیے گئے تباہ برباد کر دئیے گئے۔ ہاں نیک کار خلوص والے اللہ کے موحد بندے بچا لیے گئے اور عزت کے ساتھ رکھے گئے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔