ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 65

طَلۡعُہَا کَاَنَّہٗ رُءُوۡسُ الشَّیٰطِیۡنِ ﴿۶۵﴾
اس کے خوشے ایسے ہیں جیسے وہ شیطانوں کے سر ہوں۔ En
اُس کے خوشے ایسے ہوں گے جیسے شیطانوں کے سر
En
جس کے خوشے شیطانوں کے سروں جیسے ہوتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 65) {طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّيٰطِيْنِ:} قاموس میں ہے {طَلْعٌ} دو ملے ہوئے جوتوں جیسی چیز ہے (جو کھجور کے درخت کے سرے پر نکلتی ہے) جس کے درمیان تہ بہ تہ پھل ہوتا ہے۔ { رُءُوْسُ الشَّيٰطِيْنِ } میں شیاطین سے مراد اگر ابلیس کی اولاد ہو تو وہ کسی نے نہیں دیکھی، نہ ان کے سر دیکھے ہیں، مگر یہ تشبیہ اس لیے دی گئی ہے کہ تمام دماغوں میں شیطان کا تصور سب سے بری اور مکروہ شخصیت کا ہے، جو ہر قسم کی خیر سے خالی ہے، جیسا کہ کسی بدصورت عورت یا مرد کو بدصورتی میں تشبیہ دینی ہو تو اسے بھوتنی یا بھوت کہا جاتا ہے، حالانکہ بھوت کسی نے نہیں دیکھا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ سانپوں کی ایک قسم کو بھی شیاطین کہتے ہیں، ان کے سروں سے مراد ان کے پھن ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

65۔ 1 اسے قباحت میں شیطانوں کے سروں سے تشبیہ دی، جس طرح اچھی چیز کے بارے میں کہتے ہیں گویا کہ وہ فرشتہ ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

65۔ اس کے شگوفے ایسے ہیں جیسے شیطانوں [39] کے سر
[39] شیطان کے مختلف مفہوم:۔
شیطان در اصل ہر بد روح کو کہتے ہیں جو اپنی سرکشی اور نافرمانی کی بنا پر حق سے دور ہو چکا ہو۔ اور جنوں میں سے جو خبیث، موذی اور بد کردار قسم کے جن ہوں انہیں ہی شیطان کہا جاتا ہے۔ پھر اس کا اطلاق ہر ایسی صفات رکھنے والی چیز پر ہونے لگا۔ خواہ وہ جن ہو یا انسان ہو یا کوئی جانور ہو۔ اور سانپ کو اس کی ایذا ہی کی وجہ سے شیطان کہتے ہیں۔ (منجد) اور اس معنی کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ جب تم گھر میں کوئی سانپ دیکھو تو اسے مارنے سے پہلے یہ کہہ دو کہ اگر وہ کوئی جن یا شیطان ہے تو چلا جائے۔ اگر پھر بھی نہ جائے تو اسے مار ڈالو۔ [مسلم۔ باب قتل الحیات، بخاری۔ کتاب بدء الخلق۔ باب قول اللّٰہ تعالیٰ و بث فیھا من کل دابۃ]
گویا اس آیت میں شیطان کے سر سے مراد سانپوں کے سر یا ناگ پھن ہیں۔ اور اس پودے کے شگوفے ایسے ہی ہوں گے اور یہ بھی ممکن ہے یہ تشبیہ محض بد صورتی کی بنا پر ہو جیسے ہم اپنی زبان میں بعض ان دیکھی چیزوں سے تشبیہ دے دیتے ہیں۔ جیسے وہ عورت ایسی خوبصورت ہے جیسے پری یا وہ ایسی بد صورت ہے جیسے چڑیل یا بھتنی یا ڈائن۔ حالانکہ پری، چڑیل، بھتنی یا ڈائن کو کسی نے بھی دیکھا نہیں ہوتا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔