ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 64

اِنَّہَا شَجَرَۃٌ تَخۡرُجُ فِیۡۤ اَصۡلِ الۡجَحِیۡمِ ﴿ۙ۶۴﴾
بے شک وہ ایسا درخت ہے جو بھڑکتی ہوئی آگ کی تہ میں اگتا ہے۔ En
وہ ایک درخت ہے کہ جہنم کے اسفل میں اُگے گا
En
بے شک وه درخت جہنم کی جڑ میں سے نکلتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 64){ اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِيْۤ اَصْلِ الْجَحِيْمِ:} یعنی زقوم ایسا درخت ہے جو جہنم کی تہ میں اگتا ہے اور آگ کی حرارت سے اس کا کچھ نہیں بگڑتا، جیسے پانی جن پودوں پر چڑھ جائے وہ مرجاتے ہیں، مگر سمندر کی تہ میں بے شمار درخت اور پودے اگتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

64۔ 1 یعنی اس کی جڑ جہنم کی گہرائی میں ہوگی البتہ اس کی شاخیں ہر طرف پھیلی ہوں گی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

64۔ وہ ایسا درخت ہے جو جہنم کی تہ [38] سے نکلتا ہے۔
[38] اللہ کی محیر العقول مخلوق:۔
جب یہ آیت نازل ہوئی تو کافروں نے خوب مذاق اڑایا کہ بھلا آگ میں درخت کیسے پیدا ہو سکتا یا برقرار رہ سکتا ہے۔ اور یہ اعتراض محض ان کی کم عقلی اور کم عملی کی بنا پر تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی صورتیں بعض دفعہ بڑی نرالی اور حیران کن ہوتی ہیں۔ مثلاً جس فصل کے اوپر سے پانی گزر جائے۔ خواہ وہ پانی سیلاب کا ہو اور زیادہ بارش کا وہ فصل برباد ہو جاتی ہے۔ پودوں اور درختوں کا بھی یہی حال ہے مگر سمندر کی تہہ میں درخت اگتے ہیں۔ پھر ایسی جمادات بھی ہیں جو درختوں کی طرح پھلتی پھولتی ہیں۔ اور ان کی نشو و نما پانی میں ہوتی ہے۔ جیسے مرجان۔ اور یہاں تو آگ میں صرف تھوہر کا درخت یعنی نباتات اگنے کا ذکر ہے۔ جبکہ آگ میں جاندار بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ جیسے آگ کا کیڑا سمندر جو آگ میں ہی زندہ رہ سکتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔