ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 62

اَذٰلِکَ خَیۡرٌ نُّزُلًا اَمۡ شَجَرَۃُ الزَّقُّوۡمِ ﴿۶۲﴾
کیا مہمانی کے طور پر یہ بہتر ہے، یا زقوم کا درخت؟ En
بھلا یہ مہمانی اچھی ہے یا تھوہر کا درخت؟
En
کیا یہ مہمانی اچھی ہے یا سینڈھ (زقوم) کا درخت؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 62){ اَذٰلِكَ خَيْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ: نُزُلًا } کھانے پینے کی چیزیں اور آرام کی جگہ جو مہمان کے آنے کے وقت کے لیے تیار کی جائیں۔ { الزَّقُّوْمِ } اسی سے {تَزَقُّمٌ} ہے، جس کا معنی کسی ناگوار چیز کو نہایت مشکل سے نگلنا ہے۔ اس درخت کا دنیا میں وجود نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے آگ میں پیدا فرمائے گا۔ صرف لفظی مشابہت کی حد تک ایک زہریلا پودا ہے جو زقوم کہلاتا ہے، جس کا دودھ جسم کو لگ جائے تو جسم سوج جاتا ہے اور آدمی مر جاتا ہے۔ صحرا کے قریب کی خشک زمینوں میں پایا جاتا ہے۔ (الوسیط) اہل جنت کے لیے { رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ (41) فَوَاكِهُ وَ هُمْ مُّكْرَمُوْنَ (42) فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ } کی مہمانی کے ذکر کے بعد اہل جہنم کی مہمانی کا ذکر فرمایا۔ اگرچہ بہتری میں دونوں کا کوئی مقابلہ نہیں، مگر کفار اپنے اعمال کو مسلمانوں کے اعمال سے بہتر سمجھتے تھے، اس لیے ان کا نتیجہ ذکر کر کے فرمایا کہ بتاؤ، دونوں میں سے بہتر کیا ہے؟ علاوہ ازیں اس میں کفار پر طنز بھی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

62۔ 1 زَ قوْم تَزَقْم سے نکلا ہے، جس کے معنی بدبودار اور کر یہ چیز کے نکلنے کے ہیں۔ اس درخت کا پھل بھی کھانا اہل جہنم کے کے لئے سخت ناگوار ہوگا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

62۔ (بتاؤ) ایسی مہمانی [36] اچھی ہے یا تھوہر کے درخت [37] کی؟
[36] ایسی مہمانی سے مراد اہل جنت کی مہمانی ہے۔ جیسا کہ سابقہ آیات میں ان کی لذیذ خوراک، صاف اور پاکیزہ مشروب اور نہایت خوبصورت عورتوں کا ذکر کیا گیا ہے اور کفار مکہ سے پوچھا یہ جا رہا ہے کہ آیا اہل جنت کی ایسی مہمانی بہتر ہے یا اہل دوزخ کی جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔
[37] اہل جنت کی خوراک لذیذ پھل تھے اور اہل دوزخ کی خوراک تھوہر کا درخت ہو گا، جس کے پتے چوڑے اور خاردار ہوتے ہیں۔ بو ناگوار اور ذائقہ کڑوا ہوتا ہے۔ اور اس میں سے جو سفید قسم کا سیال مادہ یا دودھ نکلتا ہے وہ اگر انسان کے جسم پر لگ جائے تو ورم ہو جاتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

زقوم اور طوبی ٭٭
جنت کی نعمتوں کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ ’ اب لوگ خود فیصلہ کر لیں کہ وہ جگہ اور وہ نعمتیں بہتر ہیں؟ یا زقوم کا درخت جو دوزخیوں کا کھانا ہے ‘۔
ممکن ہے اس سے مراد خاص ایک ہی درخت ہو اور وہ تمام جہنم میں پھیلا ہوا ہو، جیسے طوبیٰ کا ایک درخت ہے جو جنت کے ایک ایک محل میں پہنچا ہوا ہے۔ اور ممکن ہے کہ مراد زقوم کے درخت کی جنس ہو اس کی تائید آیت «لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ» ۱؎ [56-الواقعة:52]‏‏‏‏، سے بھی ہوتی ہے۔ ’ ہم نے اسے ظالموں کے لیے فتنہ بنایا ہے ‘۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں شجرہ زقوم کا ذکر گمراہوں کے لیے فتنہ ہو گیا وہ کہنے لگے لو اور سنو آگ میں اور درخت؟ آگ تو درخت جلا دینے والی ہے۔ یہ نبی کہتے ہیں جہنم میں درخت اگے گا۔ تو اللہ نے فرمایا ہاں یہ درخت آگ ہی سے پیدا ہو گا اور اس کی غذا بھی آگ ہی ہو گی۔ ابوجہل ملعون اسی پر ہنسی اڑاتا تھا اور کہتا تھا میں تو خوب مزے سے کھجور مکھن کھاؤں گا اسی کا نام زقوم ہے۔
الغرض یہ بھی ایک امتحان ہے بھلے لوگ تو اس سے ڈر گئے اور بروں نے اس کا مذاق اڑایا۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ۭ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:60]‏‏‏‏، ’ جو منظر ہم نے تجھے دکھایا تھا وہ صرف اس لیے ہے کہ لوگوں کی آزمائش ہو جائے اور اسی طرح اس نامبارک درخت کا ذکر بھی۔ ہم تو انہیں دھمکا رہے ہیں مگر یہ نافرمانی میں بڑھتے ہی جا رہے ہیں ‘۔
اس درخت کی اصل جڑ جہنم میں ہے۔ اس کے خوشے اور شاخیں بھیانک ڈراؤنی لمبی چوڑی دور دور شیطانوں کے سروں کی طرح پھیلی ہوئی ہیں۔ گو شیطان کو بھی کسی نے دیکھا نہیں لیکن اس کا نام سنتے ہی اس کی بد صورتی اور خباثت کا منظر سامنے آ جاتا ہے، یہی حال اس درخت کا ہے کہ دیکھنے اور چکھنے میں ظاہر اور باطن میں بری چیز ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سانپوں کی ایک قسم ہے جو بدترین بھیانک اور خوفناک شکل کے ہوتے ہیں۔
اور ایک قول یہ بھی ہے کہ نبات کی ایک قسم ہے جو بہت بری طرح پھیل جاتی ہے۔ لیکن یہ دونوں احتمال درست نہیں ٹھیک بات وہی ہے جسے ہم نے پہلے ذکر کیا۔ اسی بد منظر بدبو بد ذائقہ بد مزہ بد خصال تھور کو انہیں جبراً کھانا پڑے گا۔ اور ٹھونس ٹھونس کر انہیں کھلایا جائے گا کہ یہ بجائے خود ایک زبردست عذاب ہے۔
اور آیت میں ہے «لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ ۙلَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» ۱؎ [88-الغاشية:7،6]‏‏‏‏، ’ ان کی خوراک وہاں صرف کانٹوں دار تھور ہو گا جو نہ انہیں فربہ کر سکے نہ بھوک مٹا سکے گا۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آیت «اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ» ۱؎ [3-آل عمران:102]‏‏‏‏ کی تلاوت کر کے فرمایا: { اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا کے سمندروں میں پڑ جائے توروئے زمین کے تمام لوگوں کی خوراکیں خراب ہو جائیں۔ اس کا کیا حال ہو گا جس کی خوراک ہی یہی ہو گا } } ۱؎ [سنن ترمذي:2584،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏۔
پھر اس زقوم کے کھانے کے ساتھ ہی انہیں اوپر سے جہنم کا کھولتا گرم پانی پلایا جائے گا۔ یا یہ مطلب کہ اس جہنمی درخت کو جہنمی پانی کے ساتھ ملا کر انہیں کھلایا پلایا جائے گا۔ اور یہ گرم پانی وہ ہو گا جو جہنمیوں کے زخموں سے لہو پیپ وغیرہ کی شکل میں نکلا ہو گا اور جو ان کی آنکھوں سے اور پوشیدہ راستوں سے نکلا ہوا ہو گا۔
حدیث میں ہے کہ { جب یہ پانی ان کے سامنے لایا جائے گا۔ انہیں سخت ایذاء ہو گی بڑی کراہیت آئے گی پھر جب وہ ان کے منہ کے پاس لایا جائے گا تو اس کی بھاپ سے اس کے چہرے کی کھال جھلس کر جھڑ جائے گی اور جب اس کا گھونٹ پیٹ میں جائے گا تو ان کی آنتیں کٹ کر پاخانے کے راستے سے باہر آ جائیں گی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:52/21:]‏‏‏‏
حضرت سعید بن جیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب جہنمی بھوک کی شکایت کریں گے تو زقوم کھلایا جائے گا جس سے ان کے چہر کی کھالیں بالکل الگ ہو کر گر پڑیں گی۔ اس طرح انہیں پہچاننے والا اس میں ان کے منہ کی پوری کھال دیکھ کر پہچان سکتا ہے کہ یہ فلاں ہے۔ پھر پیاس کی شدت سے بیتاب ہو کر وہ ہائے وائے پکاریں گے تو انہیں پگھلے ہوئے تانبے جیسا گرم پانی دیا جائے گا جو چہرے کے سامنے آتے ہی چہرے کے گوشت کو جھلس دے گا اور تمام گوشت گر پڑے گا اور پیٹ میں جا کر آنتوں کو کاٹ دے گا۔ اوپر سے لوہے کے ہتھوڑے مارے جائیں گے اور ایک ایک عضو بدن الگ الگ جھڑ جائے گا، بری طرح چیختے پیٹتے ہوں گے۔ فیصلہ ہوتے ہی ان کا ٹھکانا جہنم ہو جائے گا جہاں طرح طرح کے عذاب ہوتے رہیں گے۔‏‏‏‏
جیسے اور آیت میں ہے «يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ» ۱؎ [55-الرحمن:44]‏‏‏‏ ’ جہنم اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان چکر کھاتے رہیں گے ‘۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت «ثُمَّ اِنَّ مَقِیْلَهُمْ لِإِلَى الْجَحِیْمِ» ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ واللہ آدھے دن سے پہلے ہی پہلے دونوں گروہ اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے اور وہیں قیلولہ یعنی دوپہر کا آرام کریں گے۔‏‏‏‏
قرآن فرماتا ہے «اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا» ۱؎ [25-الفرقان:24]‏‏‏‏ ’ جنتی باعتبار جائے قیام کے بہت اچھے ہوں گے اور باعتبار آرام گاہ کے بھی بہت اچھے ہوں گے ‘۔
الغرض قیلولے کا وقت دونوں کا اپنی اپنی جگہ ہو گا آدھے دن سے پہلے پہلے اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے۔ اس بنا پر یہاں «ثم» ‏‏‏‏ کا لفظ خبر پر خبر کے عطف کے لیے ہو گا۔
یہ اس کا بدلہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے باپ دادوں کو گمراہ پایا۔ لیکن پھر بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ مجبوروں اور بیوقوفوں کی طرح ان کے پیچھے ہولئے۔