ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 60

اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۶۰﴾
یقینا یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔ En
بےشک یہ بڑی کامیابی ہے
En
پھر تو (ﻇاہر بات ہے کہ) یہ بڑی کامیابی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 61،60) {اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ …:} یہ دونوں آیات اس مومن کا بقیہ کلام بھی ہو سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کلام بھی کہ { عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ } (اللہ کے خالص کیے ہوئے بندوں) کو حاصل ہونے والا یہ { رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ } (مقرر رزق) ہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ایسے ہی خوش کن انجام کو حاصل کرنے کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

60۔ 1 اس لئے کہ جہنم سے بچ جانے اور جنت کی نعمتوں کا مستحق قرار پا جانے سے بڑھ کر اور کیا کامیابی ہوگی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

60۔ یقیناً یہ بہت بڑی کامیابی [34] ہے
[34] یہ باتیں وہ اللہ تعالیٰ کے احسان کے شکر کے طور پر اپنے آپ سے کہے گا اور سنا در اصل اپنے دنیا دار ساتھی کو رہا ہو گا۔ تاکہ اس کی کوفت اور جلن میں مزید اضافہ ہو۔ یعنی عالم آخرت میں موت نہیں آئے گی۔ اہل جنت کے لئے یہی خبر انتہائی خوش کن ہو گی۔ جبکہ اہل دوزخ کے لئے یہی خبر انتہائی تکلیف دہ ہو گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔