(آیت 55) ➊ { فَاطَّلَعَفَرَاٰهُفِيْسَوَآءِالْجَحِيْمِ:”سَوَآءِ“} کا اصل معنی برابر ہے، یہاں مراد درمیان ہے، کیونکہ درمیان کی جگہ چاروں طرف سے برابر ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ مومن اپنے دوستوں کے ساتھ جھانکے گا تو قیامت کے اس منکر کو بھڑکتی ہوئی آگ کے وسط میں دیکھے گا۔ ➋ اس سے معلوم ہوا کہ آخرت میں جنتیوں کو دیکھنے اور سننے کی جو قوتیں عطا کی جائیں گی وہ دنیا کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوں گی۔ اس وقت ہم دنیا میں ہزاروں میل دور بیٹھے ہوئے آدمیوں کی آوازیں سنتے اور انھیں دیکھتے ہیں، مگر صرف ٹیلی ویژن کی وساطت سے۔ آخرت میں ہر شخص دوسرے سے کسی آلے کے بغیر بات کر سکے گا اور اسے دیکھ سکے گا، خواہ وہ کتنا دور ہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
55۔ پھر جب وہ جھانکے [32] گا تو اسے جہنم کے عین درمیان دیکھے گا
[32] عالم آخرت میں سمعی اور بصری قوتوں میں بے پناہ اضافہ:۔
اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عالم آخرت میں جو سمعی و بصری قوتیں عطا کی جائیں گی وہ اس دنیا کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہوں گی۔ ہم اس دنیا میں بھی ہزاروں میل دور بیٹھے آدمیوں کی آوازیں سنتے اور انہیں دیکھتے ہیں۔ مگر صرف ان لوگوں کی جو ٹیلیویژن سنٹر میں ہوتے ہیں اور براڈ کا سٹ کرتے ہیں۔ عالم آخرت میں ہر شخص دوسرے سے گفتگو کر سکے گا اور اسے دیکھ بھی سکے گا۔ خواہ یہ فاصلہ ہزاروں بلکہ لاکھوں میل کا ہو۔ اور کسی آلہ کے واسطہ کے بغیر سن اور دیکھ سکے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔