ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 54

قَالَ ہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّطَّلِعُوۡنَ ﴿۵۴﴾
کہے گا کیا تم جھانک کر دیکھنے والے ہو؟ En
(پھر) کہے گا کہ بھلا تم (اسے) جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو؟
En
کہے گا تم چاہتے ہو کہ جھانک کر دیکھ لو؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 54) {قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ:} وہ مومن اپنے جنتی ساتھیوں اور ہم نشینوں سے کہے گا، کیا تم جہنم میں جھانکو گے، شاید وہ کہیں نظر آجائے تو دیکھیں کس حال میں ہے؟ کیونکہ اسے گمراہ کرنے کی کوشش کرنے والے کو جہنم میں دیکھ کر اور دوستوں کو دکھا کر خوشی ہو گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏فَالْيَوْمَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُوْنَ (34) عَلَى الْاَرَآىِٕكِ يَنْظُرُوْنَ (35) هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ» ‏‏‏‏ [المطففین: ۳۴ تا ۳۶] سو آج وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہیں۔ تختوں پر (بیٹھے) نظارہ کر رہے ہیں۔ کیا کافروں کو اس کا بدلا دیا گیا جو وہ کیا کرتے تھے؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

54۔ 1 یعنی وہ جنتی اپنے جنت سے ساتھیوں سے کہے گا کیا تم پسند کرتے ہو کہ ذرا جہنم میں جھانک کر دیکھیں، شاید مجھے یہ باتیں کہنے والا وہاں نظر آجائے تو تمہیں بتلاؤں کہ یہ شخص تھا جو باتیں کرتا تھا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

54۔ پھر کہے [31] گا: ”کیا تم اس کا حال معلوم کرنا چاہتے ہو؟“
[31] یہ جملہ اللہ تعالیٰ کا کلام بھی ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہو گا۔ کہ جب اہل جنت آپس میں محو گفتگو ہوں گے اور ان میں سے ایک اپنے دنیا دار ساتھی کی سرگزشت سنائے گا تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا: کیا تم اس کے حالات معلوم کرنا چاہتے ہو؟ اور سرگزشت بیان کرنے والے کا اپنا کلام بھی ہو سکتا ہے اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہو گا کہ آؤ ذرا اس کا حال تو معلوم کریں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔