ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 4

اِنَّ اِلٰـہَکُمۡ لَوَاحِدٌ ﴿ؕ۴﴾
کہ بے شک تمھارا معبود یقینا ایک ہے۔ En
کہ تمہارا معبود ایک ہے
En
یقیناً تم سب کا معبود ایک ہی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4) {اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌ:} یعنی اللہ کے حکم سے کائنات کا نظام چلانے والے فرشتے، جو اس کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں اور جن کی ڈانٹ سے زمین و آسمان کے معاملات کی تدبیر ہوتی ہے اور جو پیغمبروں پر وحی نازل کرتے ہیں اور ذکر الٰہی کی تلاوت کرتے ہیں، یہ سب فرشتے شاہد اور دلیل ہیں کہ کائنات کا معبودِ حقیقی ایک ہے۔ کیونکہ اگر وہ ایک نہ ہو تو یہ کائنات ایک لمحے کے لیے قائم نہیں رہ سکتی، بلکہ ایک دوسرے سے ٹکرا کر فنا ہو جائے گی، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏لَوْ كَانَ فِيْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا» [الأنبیاء: ۲۲] اگر ان دونوں (زمین و آسمان) میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتے تو وہ دونوں ضرور بگڑ جاتے۔ شاہ عبدالقادر رحمہ اللہ نے ان تینوں آیات کی ایک اور بہت عمدہ تفسیر فرمائی ہے، وہ لکھتے ہیں: فرشتے کھڑے ہوتے ہیں قطار ہو کر سننے کو حکم اللہ کا، پھر جھڑکتے ہیں شیطانوں کو جو سننے کو جا لگتے ہیں، پھر جب اتر چکا، تو اس کو پڑھتے ہیں ایک دوسرے کو سنانے کو۔ (موضح) اگلی آیات میں اس دعوے کی مزید دلیلیں بیان فرمائی ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

4۔ 1 فرشتوں کی صفات ہیں۔ آسمانوں پر اللہ کی عبادت کے لئے صف باندھنے والے، یا اللہ کے حکم کے انتظار میں صف بستہ، وعظ و نصیحت کے ذریعے سے لوگوں کو ڈانٹنے والے یا بادلوں کو جہاں اللہ کا حکم ہو وہاں ہانک کرلے جانے والے اللہ کے ذکر یا قرآن کی تلاوت کرنے والے۔ ان فرشتوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے مضموں میں یہ فرمایا ہے کہ تمام انسانوں کا معبود ایک ہی ہے۔ متعدد نہیں جیسا کہ مشرکین بنائے ہوئے ہیں۔ عرف عام میں قسم تاکید اور شک دور کرنے کے لئے کھائی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نے یہاں قسم اسی شک کو دور کرنے کے لئے کھائی ہے جو مشرکین اسکی واحدنیت و الوہیت کے بارے میں پھلاتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہر چیز کی مخلوق اور مملوک ہے، اس لئے وہ جس چیز کو بھی گواہ بنا کر اس کی قسم کھائے، اس کے لئے جائز ہے۔ لیکن انسانوں کے لئے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھانا بالکل ناجائز اور حرام ہے۔ کیونکہ قسم میں جس کی قسم کھائی جاتی ہے، اسے گواہ بنانا مقصود ہوتا ہے۔ اور گواہ اللہ کے سوا کوئی نہیں بن سکتا، کہ عالم الغیب صرف وہی ہے، اس کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ بلا شبہ تمہارا الٰہ ایک ہی [2] ہے
[2] قرآن اللہ کا کلام اور کائنات اس کا فعل ہے ان دونوں میں تضاد نا ممکن ہے:۔
ان تینوں قسم کے فرشتوں کی قسم اٹھا کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”کہ تمہارا معبود حقیقی ایک ہی ہے“ یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ یہ کائنات اللہ تعالیٰ کا فعل ہے اور ذکر یا قرآن اللہ تعالیٰ کا قول یا کلام ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے قول اور فعل میں نہ اختلاف ہو سکتا ہے اور نہ تضاد۔ اگر ہم اللہ تعالیٰ کا کلام پڑھ کر اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ معبود حقیقی صرف ایک ہی ہو سکتا ہے تو لامحالہ اس کائنات کے مربوط اور منظم نظام پر غور کرنے کے بعد بھی ہم اسی نتیجہ پر پہنچتے ہیں اور یہ دونوں چیزیں ایک دوسری کی تائید و توثیق کرتی ہیں اور ان میں پوری ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ نظام کائنات میں وہ کیا کیا قابل غور باتیں ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ معبود حقیقی یا پروردگار صرف ایک ہی ہو سکتا ہے، قرآن میں بے شمار مقامات پر مذکور ہیں جن میں سے چند باتوں کا ذکر آگے بھی آرہا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔