(آیت 36){ وَيَقُوْلُوْنَاَىِٕنَّالَتَارِكُوْۤااٰلِهَتِنَا …:} یعنی وہ کلمہ توحید کی دعوت کے جواب میں کہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو، جن کی عبادت ہم اور ہمارے آباء کرتے چلے آئے ہیں، ایک دیوانے شاعر کے کہنے پر چھوڑ دیں؟ اس سے ان کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ ان ظالموں نے حق سے انکار ہی کو کافی نہیں سمجھا، بلکہ سارے جہان سے زیادہ علم و عقل والے شخص کو دیوانہ اور شاعر قرار دیا۔ حالانکہ وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کا شعر اور شعراء سے کوئی تعلق تھا اور نہ ہی آپ دیوانے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں ان کا جواب دیا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
36۔ 1 یعنی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شاعر اور مجنون کہا اور آپ کی دعوت کو جنون (دیوانگی) اور قرآن کو شعر سے تعبیر کیا اور کہا کہ ایک دیوانے کی دیوانگی پر ہم اپنے معبودوں کو کیوں چھوڑیں؟ حالانکہ یہ دیوانگی نہیں، دانائی تھی، شاعری نہیں، حقیقت تھی اور اس دعوت کو اپنانے میں ان کی ہلاکت نہیں، نجات تھی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
36۔ اور کہتے تھے: ”کیا ہم ایک دیوانہ شاعر [19] کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑ سکتے ہیں؟“
[19] شاعر اور نبی کا فرق:۔
تمام پیغمبروں کو اور اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شاعر اور مجنون کے القابات سے نوازا جاتا رہا ہے۔ شاعر کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ فصیح اور منظوم زبان میں اپنے تخیل کی بلندی اور نکتہ آفرینی یوں پیش کرتا ہے کہ اس سے سننے والے پر عارضی اور وقتی طور پر ایک وجدانی سی کیفیت آجاتی ہے۔ قرآن کریم گو بحر اور اوزان سے مبرا ہے لیکن دل میں اتر جانے کے لحاظ سے اس میں شعر سے بھی زیادہ تاثیر پائی جاتی ہے۔ اسی وجہ مماثلت کی بنا پر آپ کو شاعر بھی کہا جاتا رہا ہے۔ حالانکہ شاعر اور نبی میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ شاعر کے کلام میں جب تک جھوٹ، مبالغہ اور غلو شامل نہ ہو اس میں کچھ دلکشی پیدا نہیں ہوتی۔ جبکہ اللہ کا کلام ایسی تمام بے ہودگیوں سے پاک ہوتا ہے۔ شاعر کے تخیل کی پرواز کا میدان زندگی کا ہر اچھا یا برا پہلو ہوتا ہے۔ ماحول کا تاثر اس کی طبیعت پر غالب رہتا ہے اور معاشرہ کی اکثریت چونکہ گمراہ ہوتی ہے لہٰذا اس کا تخیل بھی انہی راستوں پر پرواز کرتا ہے۔ جبکہ اللہ کے کلام کا بنیادی موضوع صرف ایک ہے اور وہ ہے انسان کو حکیمانہ اور ناصحانہ انداز میں ہدایت کی راہ دکھانا۔ مزید برآں شاعر کے قول اور فعل میں نمایاں تضاد ہوتا ہے جبکہ ایک پیغمبر جو کچھ کہتا ہے سب سے پہلے اس پر خود عمل کر کے دکھاتا ہے۔ پھر دوسروں کو دعوت دیتا ہے۔
مجنون اور نبی کا فرق:۔
پیغمبروں کو کفار اور بالخصوص وہ لوگ جو آخرت اور جزا و سزا کے منکر ہوتے ہیں دیوانہ اس لحاظ سے کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں مرنے کے بعد جی اٹھنا، اللہ کی عدالت میں پیش ہونا اور روز قیامت کے ہولناک مناظر اور جنت و دوزخ سب طلسماتی اور افسانوی قسم کی باتیں ہیں۔ لہٰذا وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے حواس ٹھکانے نہیں رہے۔ حالانکہ نبی ہر ایک کا ہمدرد، عہد کا پابند، پاکیزہ سیرت و کردار کا مالک ہوتا ہے۔ جبکہ دیوانوں کا نہ کوئی اخلاق ہوتا ہے نہ سیرت و کردار حتیٰ کہ وہ ساری ہی باتیں بہکی بہکی کرتے ہیں۔ اور لوگ ان کی دیوانہ وار حرکتوں سے خائف رہتے ہیں اور ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور کافروں کی نا انصافی یہ ہوتی ہے کہ ان کے زعم کے مطابق محض ایک وجہ مماثلت کی بنا پر پیغمبروں کو شاعر اور مجنوں کہہ دیتے ہیں جبکہ بے شمار پہلوؤں میں وہ شاعروں اور دیوانوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ اور ان کے دل ان سب باتوں کی گواہی بھی دیتے ہیں۔ مگر صرف پیغمبروں سے مخالفت کی بنا پر انہیں ایسے ناموزوں القابات سے نوازتے ہیں اور ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ بھلا ہم ایسے شاعروں اور دیوانوں کے کہنے پر اپنے معبودوں کو چھوڑ سکتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔