ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 35

اِنَّہُمۡ کَانُوۡۤا اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ۙ یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿ۙ۳۵﴾
بے شک وہ ایسے لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو تکبر کرتے تھے۔ En
ان کا یہ حال تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں تو غرور کرتے تھے
En
یہ وه (لوگ) ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ سرکشی کرتے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 35){ اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِيْلَ لَهُمْ …:} یہاں { لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ } سے پہلے {قُوْلُوْا} (کہو) محذوف ہے۔ {إِنَّ} تعلیل یعنی عذاب کی وجہ بیان کرنے کے لیے ہے۔ یعنی ان کے عذاب کی وجہ یہ ہے کہ جب انھیں کہا جاتا ہے کہ لا الٰہ الا اللہ کہو اور توحید کا اقرار کرو تو اس سے تکبر کرتے تھے، یعنی اس سب سے بڑی حقیقت کو بھی ماننے سے انکار کر دیتے تھے اور اصل تکبر یہی ہے کہ حق بات کا انکار کر دیا جائے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِيْ قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ، قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَكُوْنَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَنَعْلُهُ حَسَنَةً، قَالَ إِنَّ اللّٰهَ جَمِيْلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ] [مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ: ۹۱] وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو گا۔ ایک آدمی نے پوچھا: آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو اور اس کا جوتا اچھا ہو۔ (کیا یہ بھی تکبر ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ جمیل ہے، جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر تو حق سے اکڑ جانے اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

35۔ 1 یعنی دنیا میں ان سے کہا جاتا تھا کہ جس طرح مسلمانوں نے یہ کلمہ پڑھ کر شرک سے توبہ کرلی ہے، تم بھی یہ پڑھ لو، تاکہ تم دنیا میں بھی مسلمانوں کے قہر و غضب سے بچ جاؤ اور آخرت میں بھی عذاب الٰہی سے تمہیں دو چار نہ ہونا پڑے، تو تکبر کرتے اور انکار کرتے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

35۔ انہیں جب یہ کہا جاتا ہے کہ ”اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں“ تو وہ اکڑ [18] بیٹھتے تھے۔
[18] خوشحال لوگوں کے اکڑنے کی تین وجوہ:۔
ان کے تکبر کی کئی وجوہ تھیں، ایک یہ کہ جب انہیں یہ بتایا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی حاجت روا اور مشکل کشا نہیں تو تم اس میں اپنے بتوں اور معبودوں کی بھی توہین سمجھتے تھے، اپنی بھی اور اپنے آباء و اجداد کی بھی لہٰذا وہ اکڑ بیٹھتے تھے دوسری یہ کہ مشرکانہ رسوم کے رواج سے جو کچھ دنیوی مفادات حاصل کر رہے تھے اس سے انہیں دستبردار ہونا پڑتا تھا لہٰذا وہ اکڑ بیٹھتے تھے، تیسری یہ کہ اگر وہ لا الہ الا اللہ کا دل سے اقرار کرتے تو انہیں اپنی چودھراہٹوں اور سرداریوں سے دستبردار ہو کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنا پڑتا تھی۔ لہٰذا وہ اکڑ بیٹھتے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔