(آیت 31) {فَحَقَّعَلَيْنَاقَوْلُرَبِّنَاۤاِنَّالَذَآىِٕقُوْنَ:} یہ پہلے تینوں جوابوں کے نتیجے میں چوتھا جواب ہے، یعنی ہم نے کفر پر قائم رکھنے کے لیے تم پر کوئی زبردستی نہیں کی، بلکہ اصل میں نہ تم ایمان والے تھے نہ ہم، جیسے ہم مجرم تھے ویسے ہی تم مجرم تھے، لہٰذا یہی انجام ہوا کہ دونوں عذاب کے مستحق ٹھہرے اور کفر وشرک کی جزا کے طور پر ہمارے رب نے جس عذاب کا وعدہ کیا تھا کہ: «لَاَمْلَـَٔنَّجَهَنَّمَمِنَالْجِنَّةِوَالنَّاسِاَجْمَعِيْنَ» [السجدۃ: ۱۳] (یقینا میں جہنم کو جنوں اور انسانوں، سب سے ضرور بھروں گا) وہ وعدہ ہم پر پورا ہو گیا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
31۔ ہمارے پروردگار کا قول (آج) ہم پر صادق آگیا کہ ہم عذاب کا مزا چکھنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔