ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 26

بَلۡ ہُمُ الۡیَوۡمَ مُسۡتَسۡلِمُوۡنَ ﴿۲۶﴾
بلکہ آج وہ بالکل فرماں بردار ہیں۔ En
بلکہ آج تو وہ فرمانبردار ہیں
En
بلکہ وه (سب کے سب) آج فرمانبردار بن گئے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 26) {بَلْ هُمُ الْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ: أَسْلَمَ يُسْلِمُ} (افعال) تابع فرمان ہو جانا، {اِسْتَسْلَمَ} میں مبالغہ ہے، اس لیے ترجمہ بالکل فرماں بردار کیا گیا ہے۔ یعنی آج وہ کوئی جواب نہیں دے رہے، بلکہ ان کی تمام اکڑفوں جاتی رہی اور وہ پوری طرح عاجز اور فرماں بردار ہو کر کھڑے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ يَوْمَىِٕذٍ السَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ» [النحل: ۸۷] اور اس دن وہ اللہ کے سامنے فرماں بردار ہونا پیش کریں گے اور ان سے گم ہو جائے گا جو وہ جھوٹ باندھا کرتے تھے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

26۔ بلکہ آج وہ بالکل مطیع و منقاد بن جائیں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔