(آیت 24) {وَقِفُوْهُمْاِنَّهُمْمَّسْـُٔوْلُوْنَ:} جہنم کے صراط کی طرف لے جاتے ہوئے حکم ہوگا کہ انھیں ٹھہراؤ، کیونکہ ان سے ان کے اعمال کے متعلق سوال ہو گا، اس وقت دنیا میں ان کے کفرو شرک اور دوسرے برے اعمال میں شریک دوست اور ان کے جھوٹے معبود بھی ان کے ساتھ ہوں گے، جیسا کہ فرمایا: «وَيَوْمَيُحْشَرُاَعْدَآءُاللّٰهِاِلَىالنَّارِفَهُمْيُوْزَعُوْنَ»[حٰمٓ السجدۃ: ۱۹]”اور جس دن اللہ کے دشمن آگ کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے، پھر ان کی الگ الگ قسمیں بنائی جائیں گی۔“ {”يُوْزَعُوْنَ“} کا ایک معنی یہ ہے کہ ان کی الگ الگ قسمیں بنائی جائیں گی اور ایک معنی یہ ہے کہ انھیں روکا جائے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
24۔ 1 یہ حکم جہنم میں لے جانے سے قبل ہوگا، کیونکہ حساب کے بعد ہی جہنم میں جائیں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
24۔ اور (دیکھو) انہیں ذرا ٹھہرائے رکھو، ان سے کچھ پوچھا جائے گا
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔