اس آیت کی تفسیر آیت 169 میں تا آیت 171 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
170۔ 1 یہ تنبہہ ہے کہ جھٹلانے کا انجام عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
170۔ (اور جب قرآن آگیا) تو انہوں نے اس کا انکار کر دیا [95]۔ اب جلد ہی انہیں (اس کا نتیجہ) معلوم ہو جائے گا
[95] قریش کا دعویٰ کہ اگر ہمارے پاس نبی آیا ہوتا تو ہم اللہ کے مخلص بندے ہوتے:۔
سیدنا شعیبؑ کے بعد حجاز میں کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ یہ لوگ جب سنتے کہ فلاں علاقہ میں فلاں نبی مبعوث ہوا ہے تو بسا اوقات یہ آرزو کیا کرتے کہ اگر ہمارے پاس بھی کوئی نبی آتا اور اللہ کی کتاب نازل ہوتی تو ہم اللہ کے ایسے فرمانبردار بندے بنتے جو دوسرے لوگوں کے لئے ایک مثال ہوتی۔ پھر جب ان کے پاس نبی آخر الزمان آ گیا تو اپنے ایسے سب قول و قرار بھول گئے۔ نبی کی تکذیب کی اور اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔