اس آیت کی تفسیر آیت 156 میں تا آیت 158 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
157۔ 1 یعنی عقل تو اس عقیدے کی صحت کو تسلیم نہیں کرتی کہ اللہ کی اولاد ہے، اور وہ بھی مؤنث، چلو کوئی نقلی دلیل ہی دکھا دو، کوئی کتاب جو اللہ نے اتاری ہو، اس میں اللہ کی اولاد کا اعتراف یا حوالہ ہو؟
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
157۔ اگر تم سچے ہو تو ایسی [90] تحریر لا کر دکھاؤ
[90] دعویٰ کے اثبات کے لئے دو طرح کے دلائل، عینی شہادت اور نقلی دلیل:۔
کسی دعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے دو طرح کے دلائل ہی کام دے سکتے ہیں۔ ایک عینی شہادت جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے مشرکین عرب سے پوچھا کہ جب ہم نے فرشتوں کو پیدا کیا تھا تو اس وقت تم موجود تھے اور یہ دیکھا تھا کہ انہیں عورتیں بنا کر پیدا کیا گیا ہے؟ ظاہر ہے کہ مشرکین عرب کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا اور حقیقت یہ ہے کہ فرشتوں میں نرو مادہ کی تمیز ہے ہی نہیں اور دوسری دلیل کوئی نقلی دلیل بھی ہو سکتی ہے۔ یعنی کسی آسمانی کتاب میں یہ لکھا ہو کہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے عورتیں بنا کر پیدا کیا ہے اور وہ اس کی بیٹیاں ہیں۔ اگر مشرکین عرب کوئی ایسی تحریر بھی نہ دکھا سکیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ان کے عقائد من گھڑت، لغو اور باطل ہیں۔
[90] دعویٰ کے اثبات کے لئے دو طرح کے دلائل، عینی شہادت اور نقلی دلیل:۔
کسی دعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے دو طرح کے دلائل ہی کام دے سکتے ہیں۔ ایک عینی شہادت جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے مشرکین عرب سے پوچھا کہ جب ہم نے فرشتوں کو پیدا کیا تھا تو اس وقت تم موجود تھے اور یہ دیکھا تھا کہ انہیں عورتیں بنا کر پیدا کیا گیا ہے؟ ظاہر ہے کہ مشرکین عرب کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا اور حقیقت یہ ہے کہ فرشتوں میں نرو مادہ کی تمیز ہے ہی نہیں اور دوسری دلیل کوئی نقلی دلیل بھی ہو سکتی ہے۔ یعنی کسی آسمانی کتاب میں یہ لکھا ہو کہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے عورتیں بنا کر پیدا کیا ہے اور وہ اس کی بیٹیاں ہیں۔ اگر مشرکین عرب کوئی ایسی تحریر بھی نہ دکھا سکیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ان کے عقائد من گھڑت، لغو اور باطل ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔