اَمۡ خَلَقۡنَا الۡمَلٰٓئِکَۃَ اِنَاثًا وَّ ہُمۡ شٰہِدُوۡنَ ﴿۱۵۰﴾
یا ہم نے فرشتوں کو مؤنث پیدا کیا، جب کہ وہ حاضر تھے۔
En
یا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ (اس وقت) موجود تھے
En
یا یہ اس وقت موجود تھے جبکہ ہم نے فرشتوں کو مؤنﺚ پیدا کیا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 150){ اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓىِٕكَةَ اِنَاثًا وَّ هُمْ شٰهِدُوْنَ:} اس میں فرشتوں کے مؤنث ہونے کی تردید فرمائی کہ انھیں کیسے معلوم ہوا کہ فرشتے مؤنث ہیں، کیا جب ہم نے فرشتوں کو پیدا کیا تو یہ موجود تھے کہ انھوں نے دیکھا ہو کہ ہم نے انھیں مؤنث بنایا ہے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
150۔ 1 یعنی فرشتوں کو جو یہ اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں تو کیا جب ہم نے فرشتے پیدا کئے تھے، یہ اس وقت وہاں موجود تھے اور انہوں نے فرشتوں کو عورتوں والی خصوصیات کا مشاہدہ کیا تھا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
150۔ یا ہم نے فرشتوں کو عورتیں [89] ہی پیدا کیا تھا اور یہ اس وقت موجود تھے؟
[89] قریش کا فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دینا:۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کی انکار آخرت کے علاوہ دوسری بڑی گمراہی کا ذکر فرمایا ہے۔ جو شرک فی الذات یا شرک کی سب سے بڑی اور بد ترین قسم سے تعلق رکھتی ہے۔ یعنی وہ یہ سمجھتے تھے کہ اللہ بھی صاحب اولاد ہے۔ اور یہ اتنا بڑا گناہ ہے جس کے بارے میں بہت سخت الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ پھر اس عقیدہ میں بھی وہ کئی طرح کی بے انصافیاں کرتے تھے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ پھر ان کے خیالی مجسمے اور بت بنا کر ان کی پوجا بھی کرتے تھے۔ ان میں تین مجسموں کا ذکر قرآن میں مذکور ہے۔
(1) لات یہ الٰہ کا مؤنث ہے یعنی لات کا استھان یا آستانہ طائف میں تھا اور بنی ثقیف اس کے معتقد تھے۔
(2) عزیٰ۔ عزیز سے مونث ہے بمعنی عزت والی۔ یہ قریش کی خاص دیوی تھی اور اس کا آستانہ مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلہ میں حراص کے مقام پر واقع تھا۔
(3) منات کا آستانہ مکہ اور مدینہ کے درمیان بحر احمر کے کنارے قدید کے مقام پر واقع تھا۔ بنو خزاعہ، اوس اور خزرج اس کے معتقد تھے۔ گویا مشرکین عرب وہ بڑا ظلم ڈھاتے تھے ایک اللہ کی اولاد قرار دینے کا، دوسرے شریک بھی ایسے جنہیں وہ اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ جبکہ وہ اپنے لئے بیٹیوں کو کبھی پسند نہیں کرتے تھے۔ بلکہ انہیں زندہ درگور کر دیتے تھے۔
(1) لات یہ الٰہ کا مؤنث ہے یعنی لات کا استھان یا آستانہ طائف میں تھا اور بنی ثقیف اس کے معتقد تھے۔
(2) عزیٰ۔ عزیز سے مونث ہے بمعنی عزت والی۔ یہ قریش کی خاص دیوی تھی اور اس کا آستانہ مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلہ میں حراص کے مقام پر واقع تھا۔
(3) منات کا آستانہ مکہ اور مدینہ کے درمیان بحر احمر کے کنارے قدید کے مقام پر واقع تھا۔ بنو خزاعہ، اوس اور خزرج اس کے معتقد تھے۔ گویا مشرکین عرب وہ بڑا ظلم ڈھاتے تھے ایک اللہ کی اولاد قرار دینے کا، دوسرے شریک بھی ایسے جنہیں وہ اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ جبکہ وہ اپنے لئے بیٹیوں کو کبھی پسند نہیں کرتے تھے۔ بلکہ انہیں زندہ درگور کر دیتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مشرکین کا اللہ تعالٰی کے لئے دوہرا معیار ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ ’ اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں ‘۔
پس فرماتا ہے ’ ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہوں؟ ‘
پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے ‘۔
قرآن کی اور آیت «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:19]، میں بھی یہی بیان ہے۔
دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کر دی۔
پس فرماتا ہے ’ ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہوں؟ ‘
پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے ‘۔
قرآن کی اور آیت «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:19]، میں بھی یہی بیان ہے۔
دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کر دی۔
پھر فرماتا ہے کہ «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» [53-النجم: 21، 22] آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لیے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لیے پسند فرمائیں؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَفَأَصْفَاكُمْ رَبُّكُم بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا» ۱؎ [17-الإسراء:40] ’ تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے ‘۔
یہاں فرمایا ’ کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی ‘۔
اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”پھر ان کی مائیں کون ہیں؟“ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:535/10:] نعوذ باللہ۔
اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور ہے مثبت مگر اس صورت میں کہ «یَصِفُوْنَ» کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء «اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» سے ہے یعنی ’ سب کے سب عذاب میں پھانس لیے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے ‘۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہاں فرمایا ’ کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی ‘۔
اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ ”پھر ان کی مائیں کون ہیں؟“ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:535/10:] نعوذ باللہ۔
اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور ہے مثبت مگر اس صورت میں کہ «یَصِفُوْنَ» کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء «اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» سے ہے یعنی ’ سب کے سب عذاب میں پھانس لیے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے ‘۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔