(آیت 15) {وَقَالُوْۤااِنْهٰذَاۤاِلَّاسِحْرٌمُّبِيْنٌ:} یعنی ہر معجزے کو جادو قرار دے کر ایمان لانے سے انکار کر دیتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
15۔ 1 یعنی یہ ان کا شیوہ ہے کہ نصیحت قبول نہیں کرتے اور کوئی واضح دلیل یا معجزہ پیش کیا جائے تو مذاق کرتے اور انہیں جادو باور کراتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
15۔ اور کہتے ہیں کہ: ”یہ تو صریح جادو [9] ہے
[9] بلکہ عجیب باتیں تو یہ لوگ بناتے ہیں جو اللہ کی ان آیات کو کسی طلسماتی دنیا کی باتیں سمجھتے ہیں کہ جب ہم مر جائیں گے تو پھر دوبارہ جی اٹھیں گے۔ پھر ہم سب کے سب اللہ کی عدالت میں پیش ہوں گے پھر لوگوں کے اعمال کے فیصلے ہوں گے۔ پھر ایک طرف جہنم ہو گی جس کے یہ اور یہ اوصاف ہوں گے۔ اور ایک طرف جنت ہو گی جس کے یہ اور یہ اوصاف ہوں گے۔ ایسی باتیں کسی خیالی دنیا کے متعلق تو کی جا سکتی ہیں۔ بھلا ایک بھلا چنگا اور درست عقل والا آدمی ایسی باتیں کیسے کہہ سکتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس پر کسی نے جادو کر دیا ہے جو یہ یک لخت ایسی تصوراتی اور بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔