ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 149

فَاسۡتَفۡتِہِمۡ اَلِرَبِّکَ الۡبَنَاتُ وَ لَہُمُ الۡبَنُوۡنَ ﴿۱۴۹﴾ۙ
پس ان سے پوچھ کیا تیرے رب کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے؟ En
ان سے پوچھو تو کہ بھلا تمہارے پروردگار کے لئے تو بیٹیاں اور ان کے لئے بیٹے
En
ان سے دریافت کیجئے! کہ کیا آپ کے رب کی تو بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 149) {فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ …:} پچھلی آیات کے ساتھ ان آیات کی مناسبت یہ ہے کہ مشرکین کے بد ترین عقائد میں سے ایک قیامت کا انکار تھا اور ایک شرک تھا، جس کی ایک صورت فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے کر ان کے بت بنا کر ان کی پرستش کرنا تھی۔ قرآن میں متعدد مقامات پر ان کے اس عقیدے کا ذکر کر کے اس کی تردید کی گئی ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۱۷)، نحل (۵۷، ۵۸)، بنی اسرائیل (۴۰)، زخرف (۱۶ تا۱۹) اور نجم (۲۱ تا ۲۷) یہاں سورت کے شروع میں ان کے انکارِ قیامت پر فرمایا: «‏‏‏‏فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِيْنٍ لَّازِبٍ» ‏‏‏‏ [الصافات: ۱۱] سو ان سے پوچھ کیا یہ پیدا کرنے کے اعتبار سے زیادہ مشکل ہیں، یا وہ جنھیں ہم نے پیدا کیا؟ بے شک ہم نے انھیں ایک چپکتے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے۔
اب دوسرے عقیدے کی تردید کرتے ہوئے فرماما: «‏‏‏‏فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُوْنَ» ‏‏‏‏ پس ان سے پوچھ کیا تیرے رب کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے؟ زمخشری نے فرمایا: اس کا عطف سورت کے شروع میں { فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا } پر ہے، اگرچہ ان کے درمیان بہت فاصلہ ہے۔ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہوئے وہ تین ظلم کر رہے تھے، ایک یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دے رہے تھے، حالانکہ وہ اس سے پاک ہے، کیونکہ یہ عجز اور محتاجی کی دلیل ہے۔ دوسرا یہ کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں قرار دیں، جب کہ اپنے لیے بیٹے پسند کرتے ہیں۔ تیسرا یہ کہ انھوں نے اللہ کے مقرب فرشتوں کو مؤنث قرار دیا، حالانکہ وہ مذکر و مؤنث کی تفریق سے پاک ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب باتوں پر ان کا رد فرمایا اور سخت غصے کا اظہار فرمایا، چنانچہ فرمایا: ان سے پوچھو کہ کیا تیرے رب کے لیے بیٹیاں اور ان کے لیے بیٹے ہیں؟ ان کا اپنا حال یہ ہے کہ بیٹی کی خبر پر ان کا چہرہ سیاہ ہو جاتاہے اور اسے زندہ درگور کرنے کی فکر کرنے لگتے ہیں اور اپنے لیے اتنی ناگوار بات کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

149۔ آپ ان لوگوں سے پوچھئے: کیا آپ کے پروردگار کے لئے تو بیٹیاں ہوں اور ان کے لئے بیٹے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مشرکین کا اللہ تعالٰی کے لئے دوہرا معیار ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کی بیوقوفی بیان فرما رہا ہے کہ ’ اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں۔ اگر لڑکی ہونے کی خبر یہ پائیں تو چہرے سیاہ پڑ جاتے ہیں اور اللہ کی لڑکیاں ثابت کرتے ہیں ‘۔
پس فرماتا ہے ’ ان سے پوچھ تو سہی کہ یہ تقسیم کیسی ہے؟ کہ تمہارے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہوں؟ ‘
پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ فرشتوں کو لڑکیاں کس ثبوت پر کہتے ہیں؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت وہ موجود تھے ‘۔
قرآن کی اور آیت «‏‏‏‏وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [43-الزخرف:19]‏‏‏‏، میں بھی یہی بیان ہے۔
دراصل یہ قول ان کا محض جھوٹ ہے۔ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وہ اولاد سے پاک ہے۔ پس ان لوگوں کے تین جھوٹ اور تین کفر ہوئے اول تو یہ کہ فرشتے اللہ کی اولاد ہیں دوسرے یہ کہ اولاد بھی لڑکیاں تیسرے یہ کہ خود فرشتوں کی عبادت شروع کر دی۔
پھر فرماتا ہے کہ «‏‏‏‏أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» [53-النجم: 21، 22]‏‏‏‏ آخر کس چیز نے اللہ کو مجبور کیا کہ اس نے لڑکے تو لیے نہیں اور لڑکیاں اپنی ذات کے لیے پسند فرمائیں؟ جیسے اور آیت میں ہے کہ «أَفَأَصْفَاكُمْ رَبُّكُم بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا» ۱؎ [17-الإسراء:40]‏‏‏‏ ’ تمہیں تو لڑکوں سے نوازے اور فرشتوں کو اپنی لڑکیاں بنائے یہ تو تمہاری نہایت درجہ کی لغویات ہے ‘۔
یہاں فرمایا ’ کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسی دور از قیاس باتیں بناتے ہو تم سمجھتے نہیں ہو ڈرو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا کیسا برا ہے؟ اچھا گر کوئی دلیل تمہارے پاس ہو تو لاؤ اسی کو پیش کرو۔ یا اگر کسی آسمانی کتاب سے تمہارے اس قول کی سند ہو اور تم سچے ہو تو لاؤ اسی کو سامنے لے آؤ۔ یہ تو ایسی لچر اور فضول بات ہے جس کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہو ہی نہیں سکتی ‘۔
اتنے ہی پر بس نہ کی، جنات میں اور اللہ میں بھی رشتے داری قائم کی۔ مشرکوں کے اس قول پر کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ پھر ان کی مائیں کون ہیں؟ تو انہوں نے کہا جن سرداروں کی لڑکیاں۔ حالانکہ خود جنات کو اس کا یقین و علم ہے کہ اس قول کے قائل قیامت کے دن عذابوں میں مبتلا کئے جائیں گے۔ ان میں بعض دشمنان اللہ تو یہاں تک کم عقلی کرتے تھے کہ شیطان بھی اللہ کا بھائی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:535/10:]‏‏‏‏ نعوذ باللہ۔
اللہ تعالیٰ اس سے بہت پاک منزہ اور بالکل دور ہے جو یہ مشرک اس کی ذات پر الزام لگاتے ہیں اور جھوٹے بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اور ہے مثبت مگر اس صورت میں کہ «یَصِفُوْنَ» کی ضمیر کا مرجع تمام لوگ قرار دیئے جائیں۔ پس ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا جو حق کے ماتحت ہیں اور تمام نبیوں رسولوں علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ استثناء «اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» سے ہے یعنی ’ سب کے سب عذاب میں پھانس لیے جائیں گے مگر وہ بندگان جو اخلاص والے تھے ‘۔ یہ قول ذرا تامل طلب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔