(آیت 148) ➊ { فَاٰمَنُوْا:} شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں: ”وہی قوم جس سے بھاگے تھے، ان پر ایمان لا رہی تھی۔ (وہ انھیں) ڈھونڈتی تھی کہ یہ جا پہنچے، (اس سے) ان کو بڑی خوشی ہوئی۔“ (موضح) ➋ { فَمَتَّعْنٰهُمْاِلٰىحِيْنٍ:} یعنی انھیں عذاب سے بیک وقت ہلاک کرنے کے بجائے ہر ایک کو اس کی مقررہ عمر تک فائدہ اٹھانے کا موقع عطا فرمایا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
148۔ 1 ان کے ایمان لانے کی کیفیت کا بیان (فَلَوْلَاكَانَتْقَرْيَةٌاٰمَنَتْفَنَفَعَهَآاِيْمَانُهَآاِلَّاقَوْمَيُوْنُسَ ۭ لَمَّآاٰمَنُوْاكَشَفْنَاعَنْھُمْعَذَابَالْخِزْيِفِيالْحَيٰوةِالدُّنْيَاوَمَتَّعْنٰھُمْاِلٰىحِيْنٍ) 10۔ یونس:98) میں گزر چکا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
148۔ چنانچہ وہ لوگ ایمان لے آئے تو ہم [88] نے انہیں کچھ مدت زندگی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا۔
[88] سیدنا یونس کا اپنی قوم میں واپس آنا:۔
جب سیدنا یونسؑ اپنی قوم کے پاس پہنچے تو وہ پہلے ہی آپ کے منتظر بیٹھے تھے۔ وہ فوراً آپ پر ایمان لے آئے۔ اور پھر سے ان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات و اکرامات ہونے لگے۔ چونکہ اس واقعہ میں سیدنا یونسؑ کے ایک کمزور پہلو کی نشاندہی ہوتی ہے۔ غالباً اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتاکید فرما دیا کہ تمام انبیاء نبی ہونے کے لحاظ سے برابر ہیں اور کسی نبی کو دوسرے پر فضیلت نہیں۔ ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ ”مجھے یونس بن متیٰ پر فضیلت نہ دو“ اور دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ ”جس نے مجھے یونس بن متیٰ پر فضیلت دی اس نے جھوٹ بولا“ [مسلم۔ كتاب الفضائل۔ باب من فضائل موسيٰ عليه السلام] در اصل یہ یونسؑ کی ایک اجتہادی غلطی تھی۔ اور یہ ہر انسان حتیٰ کہ انبیاء سے بھی ممکن ہے۔ لیکن مقربین کی چھوٹی سی غلطی اور لغزش بھی اللہ کے ہاں بڑی اور قابل مواخذہ ہوتی ہے۔ اسی بنا پر انبیاء پر بھی اللہ کی طرف سے عتاب نازل ہوتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔