(آیت 147) {وَاَرْسَلْنٰهُاِلٰىمِائَةِاَلْفٍاَوْيَزِيْدُوْنَ:} تندرست ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انھیں پھر ایک لاکھ یا اس سے زیادہ افراد پر مشتمل آبادی کی طرف پیغام حق پہنچانے کے لیے بھیج دیا۔ اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ وہی آبادی تھی جہاں سے وہ ناراض ہو کر گئے تھے اور جن کی توبہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب سے محفوظ رکھا تھا۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں جو لفظ {”اَوْ“} استعمال فرمایا ہے کہ ہم نے اسے ایک لاکھ کی طرف بھیجا ”یا“ وہ زیادہ ہوں گے، یہ لفظ تو شک کے لیے استعمال ہوتا ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کے لیے شک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ یہ دیکھنے والوں کے لحاظ سے ہے کہ اگر کوئی انھیں دیکھے تو کہے گا کہ ایک لاکھ ہیں یا اس سے زیادہ ہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہاں {”اَوْ“} بمعنی {”بَلْ“} ہے، اور اسی کے مطابق ترجمہ کیا گیا ہے ”بلکہ وہ زیادہ ہوں گے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
147۔ اور (اس کے بعد) انہیں ایک لاکھ [87] یا اس سے زیادہ لوگوں کی طرف بھیجا
[87] اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو اسی قوم کے ہاں جانے کا حکم دیا۔ جس سے آپؑ بھاگ آئے تھے۔ ان کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔ انہوں نے جس آہ و زاری سے توبہ کی تھی اللہ نے ان کی توبہ قبول کر کے ان سے عذاب کو ٹال دیا تھا اور وہ کسی رہنمائی کرنے والے کے منتظر تھے۔ سیدنا یونسؑ کو تلاش کرتے رہے۔ مگر وہ کہیں نہ ملے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔