(آیت 146){ وَاَنْۢبَتْنَاعَلَيْهِشَجَرَةًمِّنْيَّقْطِيْنٍ: ”قَطَنَبِالْمَكَانِ“} (ن) کسی جگہ اقامت اختیار کرنے کو کہتے ہیں۔ {”يَقْطِيْنٍ“} اس میں سے {”يَفْعِيْلٌ“} کے وزن پر ہے۔ یہ لفظ ہر ایسے پودے پر بولا جاتا ہے جس کا تنا نہ ہو، مثلاً کدو، ککڑی، تربوز اور خربوزہ وغیرہ۔ زیادہ تر پیٹھے کدو کو {”يَقْطِيْنٍ“} کہتے ہیں، کیونکہ وہ زمین پر پڑا رہتا ہے۔ {”عَلَيْهِ“ } کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بیل کا تنا معجزانہ طور پر اونچا کر دیا، جس سے یونس علیہ السلام پر سایہ ہو گیا، یا وہ بیل کسی اور بلند چیز پر چڑھ کر انھیں سایہ اور غذا مہیا کرتی رہی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
146۔ 1 یَقْطِیْنِ ہر اس بیل کو کہتے ہیں جو اپنے تنے پر کھڑی نہیں ہوتی، جیسے لوکی، کدو وغیرہ کی بیل اس چٹیل میدان میں جہاں کوئی درخت تھا نہ عمارت۔ ایک سایہ دار بیل اگا کر ہم نے ان کی حفاظت فرمائی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
146۔ اور ان پر ایک بیل دار [86] درخت اگا دیا
[86] آپ کی رہائش اور خوراک کا بندوبست:۔
﴿يَقْطِيْنٌ﴾ کا اطلاق ہر اس پودے پر ہوتا ہے جس کا تنا نہ ہو مثلاً کدو، ککڑی، تربوز وغیرہ اور بالخصوص اس کا اطلاق پیٹھا کدو کی بیل پر ہوتا ہے۔ اور مفسرین کی اکثر رائے کے مطابق یہی پودا وہاں اگ آیا تھا۔ اس کے پتے چوڑے چوڑے ہوتے ہیں جو دھوپ وغیرہ سے سایہ کا کام دیتے ہیں۔ نیز کہتے ہیں کہ مکھی اس پودے کے نزدیک نہیں آتی۔ آپ کی خوراک کا اللہ تعالیٰ نے کیا انتظام فرمایا؟ کتاب و سنت میں اس کی کوئی صراحت نہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ روزانہ ایک ہر نی آتی جس کا آپؑ دودھ پی لیتے تھے۔ تا آنکہ چند دنوں میں آپؑ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔