ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 144

لَلَبِثَ فِیۡ بَطۡنِہٖۤ اِلٰی یَوۡمِ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿۱۴۴﴾ۚؒ
تو یقینا اس کے پیٹ میں اس دن تک رہتا جس میں لوگ اٹھائے جائیں گے۔ En
تو اس روز تک کہ لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اسی کے پیٹ میں رہتے
En
تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ میں ہی رہتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 143 میں تا آیت 145 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

144۔ 1 یعنی توبہ استغفار اور اللہ کی تسبیح بیان نہ کرتے، (جیسا کہ انہوں نے کہا (وَدَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ اِذْ يَحْكُمٰنِ فِي الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِيْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ ۚ وَكُنَّا لِحُـكْمِهِمْ شٰهِدِيْنَ) 21۔ الانبیاء:78) تو قیامت تک وہ مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

144۔ تو تا روز قیامت مچھلی کے پیٹ [85] میں ہی پڑے رہتے
[85] مچھلی کے پیٹ سے باہر آنا:۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کی توبہ و استغفار کو قبول فرمایا اور مچھلی کو حکم دیا کہ وہ انہیں ساحل کے کنارے پر پھینک دے۔ چنانچہ مچھلی نے جیسے آپ کو نگلا تھا ویسے ہی صحیح و سالم ایک چٹیل میدان کے قریب اگل دیا۔ آپ اس وقت سخت نحیف و ناتواں تھے۔ جلد بھی بہت نرم و نازک بن گئی تھی۔ اس وقت آپ کی وہی حالت تھی جیسے ایک بچہ کی ماں کے پیٹ سے نکلنے کے بعد ہوتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔