اس آیت کی تفسیر آیت 143 میں تا آیت 145 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
144۔ 1 یعنی توبہ استغفار اور اللہ کی تسبیح بیان نہ کرتے، (جیسا کہ انہوں نے کہا (وَدَاوٗدَوَسُلَيْمٰنَاِذْيَحْكُمٰنِفِيالْحَرْثِاِذْنَفَشَتْفِيْهِغَنَمُالْقَوْمِ ۚ وَكُنَّالِحُـكْمِهِمْشٰهِدِيْنَ) 21۔ الانبیاء:78) تو قیامت تک وہ مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
144۔ تو تا روز قیامت مچھلی کے پیٹ [85] میں ہی پڑے رہتے
[85] مچھلی کے پیٹ سے باہر آنا:۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کی توبہ و استغفار کو قبول فرمایا اور مچھلی کو حکم دیا کہ وہ انہیں ساحل کے کنارے پر پھینک دے۔ چنانچہ مچھلی نے جیسے آپ کو نگلا تھا ویسے ہی صحیح و سالم ایک چٹیل میدان کے قریب اگل دیا۔ آپ اس وقت سخت نحیف و ناتواں تھے۔ جلد بھی بہت نرم و نازک بن گئی تھی۔ اس وقت آپ کی وہی حالت تھی جیسے ایک بچہ کی ماں کے پیٹ سے نکلنے کے بعد ہوتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔