(آیت 14) {وَاِذَارَاَوْااٰيَةًيَّسْتَسْخِرُوْنَ: ”سَخِرَيَسْخَرُ“} (س) مذاق اڑانا اور {”اِسْتَسْخَرَ“} (استفعال) میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں مبالغہ پیدا ہو گیا، اس لیے ترجمہ میں لفظ ”خوب“ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یعنی جب کوئی معجزہ دیکھتے ہیں، مثلاً چاند کا پھٹنا یا آپ کا راتوں رات مسجد اقصیٰ تک سیر کر کے آجانا اور اس کے متعلق ان کے ہر سوال کا درست جواب دینا وغیرہ، تو ایمان لانے کے بجائے خوب مذاق اڑاتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
14۔ اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو تمسخر کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔