ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 138

وَ بِالَّیۡلِ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۳۸﴾٪
اور رات کو بھی۔ تو کیا تم سمجھتے نہیں؟ـ En
اور رات کو بھی۔ تو کیا تم عقل نہیں رکھتے
En
اور رات کو بھی، کیا پھر بھی نہیں سمجھتے؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 137 میں تا آیت 139 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

138۔ 1 یہ اہل مکہ سے خطاب ہے جو تجارتی سفر میں ان تباہ شدہ علاقوں سے آتے جاتے، گزرتے تھے ان کو کہا جارہا ہے کہ تم صبح کے وقت بھی اور رات کے وقت بھی ان بستیوں سے گزرتے ہو، جہاں اب مردار بحیرہ ہے، جو دیکھنے میں بھی نہایت کر یہ ہے اور سخت متعفن اور بدبودار۔ کیا تم انہیں دیکھ کر یہ بات نہیں سمجھتے کہ رسولوں کے جھٹلانے کی وجہ سے ان کا یہ بد انجام ہوا، تو تمہاری اس روش کا انجام بھی اس سے مختلف کیوں کر ہوگا؟ جب تم بھی وہی کام کر رہے ہو، جو انہوں نے کیا تو پھر اللہ کے عذاب سے کیوں کر محفوظ رہو گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

138۔ پھر کیا تمہیں سمجھ نہیں آتی؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔