ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 137

وَ اِنَّکُمۡ لَتَمُرُّوۡنَ عَلَیۡہِمۡ مُّصۡبِحِیۡنَ ﴿۱۳۷﴾
اور بلا شبہ تم یقینا صبح جاتے ہوئے ان پر سے گزرتے ہو۔ En
اور تم دن کو بھی ان (کی بستیوں) کے پاس سے گزرتے رہتے ہو
En
اور تم تو صبح ہونے پر ان کی بستیوں کے پاس سے گزرتے ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 138،137) {وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَيْهِمْ مُّصْبِحِيْنَ …:} یعنی تم تجارت کے لیے شام و فلسطین کی طرف جاتے اور آتے ہوئے دن رات اور صبح و شام قوم لوط کی تباہ شدہ بستیوں کے پاس سے گزرتے ہو، تو کیا تم عقل نہیں کرتے اور تمھیں ان کے انجام سے عبرت نہیں ہوتی؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

137۔ اور تم تو ان (کی اجڑی [79] بستی) پر شب و روز گزرتے ہی رہتے ہو۔
[79] یہ علاقہ اس شاہراہ پر واقع تھا جہاں سے کفار مکہ کے تجارتی قافلے مکہ سے شام اور شام سے واپسی پر گزرتے تھے اور اس اجڑے ہوئے علاقہ کے تاریخی حالات بھی معلوم تھے۔ بسا اوقات دیکھتے بھی رہتے تھے۔ لیکن یہ سوچنے کی کبھی زحمت ہی گوارا نہ کرتے تھے کہ یہ علاقہ کیوں ہلاک کیا گیا تھا؟ اور اگر ہم بھی اللہ کے نافرمان اور سرکش بن کر رہیں تو ہم پر بھی عذاب الٰہی نازل ہو سکتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔