ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 133

وَ اِنَّ لُوۡطًا لَّمِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۱۳۳﴾ؕ
اور بلاشبہ لوط یقینا رسولوں میں سے تھا۔ En
اور لوط بھی پیغمبروں میں سے تھے
En
بیشک لوط (علیہ السلام بھی) پیغمبروں میں سے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 133تا136) {وَ اِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ …:} ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۷۷ تا ۸۳) اور سورۂ حجر (۵۷ تا ۷۷)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

133۔ اور لوط بھی بلا شبہ ہمارے رسولوں میں سے تھے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قوم لوط علیہ السلام ایک عبرت کا مقام ٭٭
اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول لوط علیہ السلام کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ انہیں بھی ان کی قوم نے جھٹلایا۔ جس پر اللہ کے عذاب ان پر برس پڑے اور اللہ نے اپنے پیارے لوط علیہ السلام کو مع ان کے گھر والوں کے نجات دے دی۔ لیکن ان کی بیوی غارت ہوئی قوم کے ساتھ ہی ہلاک ہوئی اور ساری قوم بھی تباہ ہوئی۔ قسم قسم کے عذاب ان پر آئے اور جس جگہ وو رہتے تھے وہاں ایک بدبودار اور جھیل بن گئی جس کا پانی بدمزہ بدبو بد رنگ ہے جو آنے جانے والوں کے راستے میں ہی پڑی ہے۔ تم تو دن رات وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو اور اس خوفناک منظر اور بھیانک مقام کو صبح شام دیکھتے رہتے ہو۔ کیا اس معائنہ کے بعد بھی عبرت حاصل نہیں کرتے اور سوچتے سمجھتے نہیں ہو؟ کس طرح یہ برباد کر دیئے گئے؟ ایسا نہ ہو کہ یہی عذاب تم پر بھی آ جائیں ‘۔