ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 129

وَ تَرَکۡنَا عَلَیۡہِ فِی الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿۱۲۹﴾ۙ
اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں اس کے لیے یہ بات چھوڑ دی۔ En
اور ان کا ذکر (خیر) پچھلوں میں (باقی) چھوڑ دیا
En
ہم نے (الیاس علیہ السلام) کا ذکر خیر پچھلوں میں بھی باقی رکھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 129تا132) {وَ تَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْاٰخِرِيْنَ …:} ان آیات کی تفسیر پیچھے آیات (۷۸ تا ۸۱) کے تحت گزر چکی ہے۔ { اِلْ يَاسِيْنَ } الیاس علیہ السلام ہی کا دوسرا نام ہے، جیسے ایک ہی پہاڑ کو قرآن میں طور سینا بھی کہا گیا ہے اور طور سينين بھی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

129۔ اور پچھلی نسلوں میں اس کا ذکر خیر چھوڑ دیا

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔